مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 304 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 304

اس کا جواب دیتا ہوں۔ہر ایک چیز کی کَلْ میرے ہاتھ میں ہے اور میرا علم سب پر محیط ہے۔میں ہی ہوں جو زمین و آسمان کو اٹھا رہا ہوں۔مَیں ہی ہوں جو تمہیں خشکی تری میں اُٹھا رہا ہوں۔یہ تمام آیات قرآن شریف میں موجود ہیں۔بچہ بچہ مسلمانوں کا ان کو جانتا اور پڑھتا ہے۔جس کا جی چاہے وہ ہم سے آکر ابھی پوچھ لے۔پھر ان آیات کو ظاہر نہ کرنا اور ایک استعارہ کو لے کراس پر اعتراض کر دینا کیا یہی دیانت آریہ سماج کی ہے ایسا دنیا میں کون مسلمان ہے جو خدا کو محدود جانتا ہے یا اس کے وسیع اور غیر محدود علم سے منکر ہے۔اب یاد رکھو کہ قرآن شریف میںیہ تو کہیں بھی نہیں کہ خدا کو کوئی فرشتہ اُٹھا رہا ہے بلکہ جابجا یہ لکھا ہے کہ خدا ہرایک چیز کو اُٹھا رہا ہے ہاں بعض جگہ یہ استعارہ مذکورہے کہ خدا کے عرش کو جو دراصل کوئی جسمانی اور مخلوق چیز نہیں فرشتے اٹھارہے ہیں۔دانشمند اس جگہ سے سمجھ سکتا ہے کہ جبکہ عرش کوئی مجسم چیز ہی نہیں تو فرشتے کس چیز کو اٹھاتے ہیں۔ضرور کوئی یہ استعارہ ہوگا مگر آریہ صاحبوں نے اس بات کو نہیں سمجھا کیونکہ انسان خود غرضی اور تعصب کے وقت اندھا ہو جاتا ہے۔اب اصل حقیقت سنو کہ قرآن شریف میں لفظ عرش کا جہاں جہاں استعمال ہوا ہے اس سے مراد خدا کی عظمت اور جبروت اور بلندی ہے۔اسی وجہ سے اس کو مخلوق چیزوں میں داخل نہیں کیا اور خدا تعالیٰ کی عظمت اور جبروت کے مظہر ۱؎ چار ہیں جو وید کے رُو سے چار دیوتے کہلاتے ہیں مگر قرآنی اصطلاح