مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 303
کوئ چیزمحدوداور مخلوق ہے۔خدا نے بار بار قرآن شریف میں فرمایا ہے کہ ہر ایک چیز جو کوئی وجود رکھتی ہے اس کا مَیں ہی پیدا کرنے والا ہوں۔مَیں ہی زمین و آسمان اور رُوحوں اور ان کی تمام قوتوں کا خالق ہوں۔مَیں اپنی ذات میں آپ قائم ہوں اور ہر ایک چیز میرے ساتھ قائم ہے۔ہر ایک ذرہ اور ہر ایک چیز جو موجود ہے وہ میری ہی پیدائش ہے۔مگر کہیں نہیں فرمایا کہ عرش بھی کوئی جسمانی چیز ہے جس کا مَیں پیدا کرنے والا ہوں۔اگر کوئی آریہ قرآن شریف میں سے نکال دے کہ عرش کوئی جسمانی اورمخلوق چیز ہے تو میں اس کو قبل اس کے جو قادیان سے باہر جائے ایک ہزار روپیہ انعام دوں گا۔مَیں اُس خدا کی قسم کھاتا ہوں جس کی جھوٹی قسم کھانا لعنتی کا کام ہے کہ مَیں قرآن شریف کی وہ آیت دکھاتے ہی ہزار روپیہ حوالہ کروں گا۔ورنہ میں بادب کہتا ہوں کہ ایسا شخص خود لعنت کا محل ہوگا جو خدا پر جھوٹ بولتا ہے۔اب ظاہر ہے کہ اس اعتراض کی بنیاد تو محض اس بات پر ہے کہ عرش کوئی علیحدہ چیز ہے جس پر خدا بیٹھا ہوا ہے اور جب یہ امر ثابت نہ ہو سکا تو کچھ اعتراض نہ رہا۔خدا صاف فرماتا ہے کہ وہ زمین پر بھی ہے اور آسمان پر بھی اور کسی چیز پر نہیں بلکہ اپنے وجود سے آپ قائم ہے اور ہر ایک چیز کو اُٹھائے ہوئے ہے اور ہر ایک چیز پر محیط ہے۔جہاں تین ہوں تو چوتھا ان کا خداہے۔جہاں پانچ ہوں تو چھٹا ان کے ساتھ خدا ہے اور کوئی جگہ نہیں جہاں خدا نہیں اور پھر فرماتا ہے۔ ۱؎۔جس طرف تم منہ کرو اسی طرف خدا کا منہ پاؤ گے۔وہ تم سے تمہاری رگِ جان سے بھی زیادہ قریب ہے۔وہی ہے جو پہلے ہے اور وہی ہے جو آخر ہے اور وہ سب چیزوں سے زیادہ ظاہر ہے اور وہ نہاں در نہاں ہے اور پھر فرماتا ہے۔ ۲؎ یعنی جب میرے بندے میرے بارے میں پوچھیں کہ وہ کہاں ہے۔پس جواب یہ ہے کہ ایسا نزدیک ہوں کہ مجھ سے زیادہ کوئی نزدیک نہیں جو شخص مجھ پر ایمان لاکر مجھے پکارتا ہے تو میں