مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 266
ہوگا کہ یہ زبانی مباحثہ کی جرأت بھی میرے ہی اس عہد ترکِ بحث نے اُن کو دلائی ہے جو انجام آتھم میں طبع ہو کر لاکھوں انسانوں میں مشتہر ہو چکا ہے۔لہذا میں یہ رسالہ۱؎ لکھ کر اس وقت اقرار صحیح شرعی کرتا ہوں کہ اگر وہ اس کے مقابل پر کوئی رسالہ لکھ کر میرے ان تمام دلائل کو اول سے آخر تک توڑ دیں اور پھر مولوی ابو سعید محمد حسین صاحب بٹالوی ایک مجمع بٹالہ میں مقرر کرکے ہم دونوں کی حاضری میں میرے تمام دلائل ایک ایک کرکے حاضرین کے سامنے ذکر کریں اور پھر ہر ایک دلیل کے مقابل پر جس کو وہ بغیر کسی کمی بیشی اور تصرف کے حاضرین کو سُنا دیں گے پیر صاحب کے جوابات سُنا دیں اور خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہیں کہ یہ جوابات صحیح ہیں اور دلیل پیش کردہ کی قلع قمع کرتے ہیں تو میں مبلغ پچاس۵۰ روپیہ انعام بطور فتح یابی پیر صاحب کو اسی مجلس میں دے دوںگا اور اگر پیر صاحب تحریر فرماویں تو میںیہ مبلغ پچاس روپیہ پہلے سے مولوی محمد حسین صاحب کے پاس جمع کرادوںگا۔مگر یہ پیر صاحب کا ذمہ ہوگا کہ وہ مولوی محمد حسین صاحب کو ہدایت کریں کہ تا وہ مبلغ پچاس روپیہ اپنے پاس بطور امانت جمع کرکے باضابطہ رسید دیدیں اور مندرجہ بالا طریق کی پابندی سے قسم کھا کران کو اختیار ہوگا کہ وہ بغیر میری اجازت کے پچاس روپیہ پیر صاحب کے حوالہ کر دیں۔قسم کھانے کے بعد میری شکایت اُن پر کوئی نہیں ہوگی صرف خدا پر نظر ہوگی جس کی وہ قسم کھائیں گے۔پیر صاحب کا یہ اختیار نہیں ہوگا کہ یہ فضول عذرات پیش کریں کہ میں نے پہلے سے ردّ کرنے کے لئے کتاب لکھی ہے کیونکہ اگر انعامی رسالہ کا انہوں نے جواب نہ دیا تو بلا شبہ لوگ سمجھ جائیں گے کہ وہ سیدھے طریق سے مباحثات پر بھی قادر نہیںہیں۔المشتہر مرزا غلام احمد از قادیاں یکم ستمبر ۱۹۰۲ء (ٹائٹل پیج نمبر۲ تحفہ گولڑویہ مطبوعہ یکم ستمبر ۱۹۰۲ء۔روحانی خزائن جلد۱۷ صفحہ ۳۶)