مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 244
کان اوحدثا واستخلصہ جد ا لاعبثا۔وقبل یا برنا و آنراسختہ دانست نہ ہرزہ و ایں سخن را بگوش یا جوان ہو اسے ہزل نہیں سنجیدہ بات سمجھے گا۔الکلام۔و قطع الخصام فقد نال المرام۔فارجعوا۔قبول شنید و ہمہ ستیزہ و جنگ را بگذاشت او بالیقین برسر مراد برسد پس بسوئے اور سب جھگڑے چھوڑ دے گا وہ کامیاب ہو گا سو اب تم الی الحکم القاضی۔و ھیجوا انفسکم علی الماضی۔حَکم قاضی رجوع بیارید و برآنچہ بگذشت پشیمانی و افسوس بخورید و حاکم قاضی کی طرف آ جائو اور اپنی گذشتہ کرتوتوں پر پشیمان ہو جائو اور و احسبوا قولی ھذا من ضیعتی و مبرتی۔و فیہ مسرتکم گفتہ مرا نیکی و احسان از من در حق خود بشمرید و دریں شادمانی من و شماست میری بات کو اپنے حق میں میرا بڑا احسان یاد کرو اسی میں میری خوشی اور تمہاری خوشی ہے و مسرتی۔و من قبل قولی فارجوا ان یجیر لہ بالہ و آنکہ قول مرا قبول داشت امید دارم کہ شکست دل وے بستہ گردد اور جو شخص میری بات کو قبول کرے گا مجھے امید ہے کہ خدا اس کے دل کی شکست درست و یبعد عند بلبالہ۔ایھا النّاس قد اُشرب حسی و رنج و سختی از وے دور کردہ شود و احوال وے نیکو ای مردم حس من فرو خورانیدہ کر دے گا اور اس کے رنج و غم کو دُور اور اس کے احوال کو ٹھیک کر ے گا۔اے لوگو! مجھے معلوم ہو رہا ونبأنی حدسی۔ان البـلاء قد نـزل من کثـرۃ العصیان شدہ است و فراست من مرا خبردادہ کہ ایں بلا از کثرت گناہاں نازل شدہ ہے اور میری فراست کہہ رہی ہے کہ یہ بلا گناہوں کی کثرت کی وجہ سے آئی ہے