مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 224
میں ہر ایک ملک میں کسی قدر گروہ مسلمانوں کا ضرور مبتلا ہے۔بلکہ جو شخص سچے دل سے جہاد کا مخالف ہو اس کو یہ علماء کافر سمجھتے ہیں۔بلکہ واجب القتل بھی۔لیکن چونکہ اسلام کی تعلیم میں یہ بات داخل ہے کہ جو شخص انسان کا شکر نہیں کرتا وہ خد اکا شکر بھی نہیں کرتا۔اس لئے ہم لوگ اگر ایمان اور تقویٰ کو نہ چھوڑیں تو ہمارا یہ فرض ہے کہ اپنے قول اور فعل سے ہر طرح اس گورنمنٹ برطانیہ کی نصرت کریں۔کیونکہ ہم اس گورنمنٹ کے مبارک قدم سے پہلے ایک جلتے ہوئے تنور میں تھے۔یہی گورنمنٹ ہے جس نے اس تنور سے ہمیں باہر نکالا۔غرض اسی خیال سے جو میرے دل میں مستحکم جما ہوا ہے۔اعجاز المسیح میں بھی یعنی اس کے صفحہ ۱۵۲ میںجہاد کی مخالفت اور گورنمنٹ کی اطاعت کے بارے میں شدّ و مد سے لکھا گیا۔مجھے معلوم ہوا ہے کہ اسی تحریر سے صاحب جریدہ منار اپنے تعصّب کی وجہ سے جل گیا اور اس نے آنکھیں بند کر لیں اور سخت گوئی اور گالیوں پر آگیا اور منار میں بہت تحقیر اور توہین سے مجھے یاد کیا اور وہ پرچہ جس میں میری بد گوئی تھی کسی تقریب سے پنجاب میں پہنچ گیا۔پنجاب کے پُر حسد مُلّا تو آگے ہی مجھ سے ناراض تھے۔اور پیر گولٹروی کی کمر ٹوٹ چکی تھی اس لئے منار کی وہ دوچار سطریں مرتے کے لئے ایک سہارا ہو گئیں۔تب ان لوگوں نے اپنی طرف سے اَور بھی نُون مرچ لگا کر اور اُن چند سطروں کا اُردو میں ترجمہ کر کے وہ مضمون پرچہ اخبار چودھویں صدی میں جو راولپنڈی سے نکلتا ہے چھپوا دیا اور جا بجا بغلیں مارنے لگے کہ دیکھو اہل زبان نے اور پھر منار کے ایڈیٹرجیسے ادیب نے ان کی عربی کی کیسی خبر لی۔بیوقوفوں کو معلوم نہ ہواکہ یہ تو سارا جہاد کی مخالفت کامضمون پڑھ کر جوش نکالا گیا ہے۔ورنہ اسی قاہرہ میں پرچہ مناظر کے ایڈیٹر نے جو ایک نامی ایڈیٹر ہے جس کی تعریف منار بھی کرتا ہے اپنے جریدہ میں صاف طور پر اقرار کر دیا ہے کہ کتاب اعجاز المسیح درحقیقت فصاحت بلاغت میں بے مثل کتاب ہے اور صاف گواہی دے دی ہے کہ اس کے بنانے پر دوسرے مولوی ہر گز قادر نہیں ہوں گے۔ان مخالفوں کو چاہیے کہ جریدہ مناظر کو طلب کر کے ذرہ آنکھیں کھول کر پڑھیں اور ہمیں بتائیں کہ اگر ایڈیٹر منار اہل زبان ہے تو کیا ایڈیٹر مناظر اہل زبان نہیں ہے؟ بلکہ مناظر نے صاف طور پر