مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 223
بِسْمِ اﷲِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِِ نَحْمَدُہٗ وَنُصَلِّیْ عَلٰی رَسُوْلِہِ الْکَرِیْمِ الـمـنـار قاہرہ سے ایک اخبار نکلتا ہے جس کا نام منار ہے۔جب فروری ۱۹۰۱ء میں ہماری طرف سے پیر گولڑوی صاحب کے مقابل پر رسالہ اعجاز المسیح لکھا گیا جو فصیح بلیغ عربی میں ہے اور اُس کے جواب میں نہ صرف پیر صاحب موصوف عاجز رہ گئے بلکہ پنجاب اور ہندوستان کے تمام علماء بھی عاجز آ گئے تو مَیں نے مناسب سمجھا کہ اس رسالہ کوبلاد عرب یعنی حرمین اور شام اور مصر وغیرہ میں بھی بھیج دوں کیونکہ اس کتاب کے صفحہ ۱۵۲ میںجہاد کی مخالفت میں ایک مضمون لکھا گیا ہے اور مَیں نے بائیس برس سے اپنے ذمہ فرض کر رکھا ہے کہ ایسی کتابیں جن میں جہاد کی ممانعت ہو اسلامی ممالک میں ضرور بھیج دیا کرتا ہوں اسی وجہ سے میری عربی کتابیں عرب کے ملک میں بھی بہت شہرت پاگئی ہیں۔جولوگ درندہ طبع ہیں اور جہاد کی مخالفت کے بارے میں میری تحریریں پڑھتے ہیں وہ فی الفور چڑ جاتے ہیں اور میرے دشمن ہو جاتے ہیں۔مگر جن میں انسانیت ہے وہ معقول بات کو پسند کر لیتے ہیں۔پھر دشمنی کی حالت میں کون کسی کی کتاب کی تعریف کر سکتا ہے۔سو اسی خیال سے یہ رسالہ کئی جگہ مصر میں بھیجا گیا۔چنانچہ منجملہ ان کے ایڈیٹر المنار کو بھی پہنچا دیا گیا تا اس سے جہاد کے غلط خیالات کی بھی اصلاح ہو۔اور مجھے معلوم ہے کہ اس مسئلہ جہاد کی غلط فہمی