مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 216
ایک پاک وجود ہے جس کا روحانی افاضہ میرے شامل حال ہے یعنی محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم۔اس واسطہ کو ملحوظ رکھ کر اور اس میں ہو کر اور اس کے نام محمد اور احمد سے مسمّٰی ہو کر میں رسول بھی ہوں اور نبی بھی ہوں یعنی بھیجا گیا بھی اور خدا سے غیب کی خبریں پانے والا بھی۔اور اس طور سے خاتم النبییّن کی مُہر محفوظ رہی کیونکہ میں نے انعکاسی اور ظلّی طور پر محبت کے آئینہ کے ذریعہ سے وہی نام پایا۔اگر کوئی شخص اس وحی الٰہی پر ناراض ہو کہ کیوں خدا تعالیٰ نے میرا نام نبی اور رسول رکھا ہے تو یہ اس کی حماقت ہے کیونکہ میرے نبی اور رسول ہونے سے خدا کی مُہر نہیں ٹوٹتی٭ یہ بات ظاہر ہے کہ جیساکہ میں اپنی نسبت کہتا ہوں کہ خدا نے مجھے رسول اور نبی کے نام سے پکارا ہے ایسا ہی میرے مخالف حضرت عیسیٰ ابن مریم کی نسبت کہتے ہیں کہ وہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد دوبارہ دنیا میں آئیں گے۔اور چونکہ وہ نبی ہیں اس لئے ان کے آنے پر بھی وہی اعتراض ہوگا جو مجھ پر کیا جاتا ہے یعنی یہ کہ خاتم النبییّن کی مہر ختمیت ٹوٹ جائے گی۔مگر میں کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو درحقیقت خاتم النبییّن تھے مجھے رسول اور نبی کے لفظ سے پکارے جانا کوئی اعتراض کی بات نہیں۔اور نہ اس سے مہر ختمیت ٹوٹتی ہے کیونکہ میں بارہا بتلا چکا ہوں کہ میں بموجب آیت ۱؎ بروزی طور پر وہی نبی خاتم الانبیاء ہوں اور خدا نے آج سے بیس برس پہلے براہین احمدیہ میں میرا نام محمد اور احمد رکھا ہے اور مجھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی وجود قرار دیا ہے پس اس طور سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم الانبیاء ہونے میں میری نبوت سے کوئی تزلزل نہیں آیا کیونکہ ظلّ اپنے اصل سے علیحدہ نہیں ہوتا اور چونکہ میں ظلّی طور پر محمدہوں صلی اللہ علیہ وسلم پس اس طور یہ کیسی عمدہ بات ہے کہ اس طریق سے نہ تو خاتم النبییّن کی پیشگوئی کی مُہر ٹوٹی اور نہ اُمت کے کل افراد مفہوم نبوت سے جو آیت کے مطابق ہے محروم رہے مگر حضرت عیسیٰ کو دوبارہ اُتارنے سے جن کی نبوت اسلام سے چھ سَو برس پہلے قرار پا چکی ہے اسلام کا کچھ باقی نہیں رہتا اور آیت خاتم النبییّن کی صریح تکذیب لازم آتی ہے۔اس کے مقابل پر ہم صرف مخالفوں کی گالیاں سنیں گے۔سو گالیاں دیں۔َ۔۲؎ منہ