مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 205
حب اللّٰہ الوحید۔والی المحویۃ من الغیریۃ۔والی ترک النفس من الاھواء النفسانیۃ۔فان الشیطان یدعو الی الھویٰ والقطیعۃ والمسیح یدعو الی الاتحاد والمحویۃ۔وبینھما عداوۃ ذاتیۃ من الازل واذا غلب المسیح فاختتم عند ذالک محاربات کلھا التی کانت جاریۃ بین العساکر الرحمانیۃ والعساکر الشیطانیۃ۔فھناک یکون اختتام دور ھٰذہ الدنیا ویستدیر الزمان وترجع الفطرت الانسانیۃ الی ھیئتھا الاولٰی۔الّا الذین احاطتھم الشقوۃ الازلیۃ۔فاولٰئک من المحرومین۔ومن فضل اللّٰہ واحسانہ انہ جعل ھٰذا الفتح علٰی ید المسیح المحمدی لیری الناس انہ اکمل من المسیح الاسرائیلی فی بعض شیونہ وذالک من غیرۃ اللّٰہ التی ھیّجھا النصاریٰ باطراء مسیحھم۔ولما کان شان المسیح المحمدی بقیہ ترجمہ۔بجائے خدائے یگانہ کی طرف لوٹیں گے۔کیونکہ شیطان تو خواہشات نفسانیہ اور قطع تعلق کی طرف بلاتا ہے اور مسیح اتحاد اور محویت کی طرف بُلائے گا۔اور ان دونوں کے درمیان ازل سے ذاتی عداوت ہے اور جب مسیح غالب آ جائے گا تو اس وقت سب جنگیں جو رحمانی اور شیطانی لشکروں کے درمیان جاری تھیں ختم ہو جائیں گی۔پس اس وقت اس دنیا کا ایک دَور ختم ہو گا۔اور زمانہ چکر لگائے گا اور فطرت انسانیہ اپنی پہلی ہیئت کی طرف رجوع کرے گی سوائے ان لوگوں کے جن پر ازلی بدبختی نے احاطہ کر لیا ہو گا۔یہ لوگ محروم رہیں گے اور یہ اﷲ تعالیٰ کا فضل اور احسان ہے کہ اس نے یہ فتح مسیح محمدی کے ہاتھ میں دی ہے تا وہ لوگوں کو یہ دکھائے کہ وہ مسیح اسرائیلی سے اپنے بعض کاموں میں زیادہ کامل ہے اور یہ اﷲ تعالیٰ کی غیرت کی وجہ سے ہوا جسے عیسائیوں نے اپنے مسیح کی زیادہ تعریف کرنے کی وجہ سے بھڑکا دیا تھا۔اور جب مسیح محمدی کی یہ شان ہے تو اس نبی کی