مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 201
الاولٰی۔وان کانت السلسلۃ المحمدیۃ خالیۃً من ھٰذا المسیح المحمدی۔فتلک اذا قسمۃٌ ضیزیٰ۔ففکروا کل الفکر ولیس النُھٰی الا لھٰذا الامریا اولی النُھٰی۔ولا ینجی بقیہ ترجمہ : اور اگر سلسلہ محمدیہ اس مسیح محمدی سے خالی ہوتا تو یہ تقسیم ناقص اور ظالمانہ ہوتی۔پس اے عقل مندو! اس میں خوب غور کرو۔عقل اسی لئے تو دی گئی ہے۔اور انسان کو صرف صداقت ہی نجات دے سکتی ہے۔بقیۃ الحاشیۃ۔نعم لوکانت عبارۃ القراٰن بصیغۃ الماضی ولم یقل وَلْیَحْکُمْ بل قال وکان النصاریٰ یحکمون بالانجیل فقط مکان ذالک دلیلًا علٰی مدعاہُ و اما بقیۃ الفاظ ھٰذہ الاٰیات اعنی لفظ فیہ نوروھدًی فلیس ھٰذا دلیلًا علی کون الانجیل شریعۃً مستقلّۃً الیس الزبور وغیرہ من کتب انبیاء بنی اسرائیل ھُدًی للناس أ یوجد فیھا ظلمۃ ولایوجد نور فتفکر و لا تکن من الجاھلین۔وانّ النصارٰی قد اتفقوا علٰی ان عیسی بن مریم ما ا تاھم بالشریعۃ واِنّا نکتب ھٰھنا شھادۃ جی۔اے لیفراے الذی ھوبشپ لاھور اعنی امام قسوس ھٰذہ الناحیۃ وکفاک ھٰذا ان کنت تخشی من سواد الوجہ والذلّۃ۔ورأینا ان نکتب علیحدۃ ھٰذہ الشھادۃ فی الحاشیہ۔منہ۔۱؎ بقیہ ترجمہ حاشیہ : ہاں اگر قرآن کریم کی عبارت میں صیغہ ماضی کا ہوتا اور وہ یہ نہ کہتا کہ وَلْیَحْکُمْ۔بلکہ یہ کہتا وَکَانَ النَّصَارٰی یَحْکُمُوْنَ بِالْاِنْجِیْلِ فقط یعنی عیسائی لوگ صرف انجیل کے مطابق فیصلے کرتے تھے تو یہ اس کے دعویٰ پر ایک دلیل ہوتی۔پھر آیت کے بقیہ الفاظ یعنے نُورٌوَّھُدًی بھی انجیل کے مستقل شریعت ہونے پر کوئی دلیل نہیں۔کیا زبور اور اس کے علاوہ انبیاء بنی اسرائیل کی دوسری کتابیں لوگوںکے لئے ہدایت نہ تھیں۔کیا ان میں ظلمت اور تاریکی پائی جاتی تھی ار کوئی نُور اُن میں نہیں تھا۔پس تو فکر کر اور جاہلوں سے نہ بن۔اور عیسائی خود اس بات پر متفق ہیںکہ عیسیٰ علیہ السّلام ان کے پاس کوئی نئی شریعت نہ لائے تھے چنانچہ ہم یہاں جی۔اے لیفرائے بشپ لاہور ( یعنی اس علاقہ کے علاقہ کے عیسائیوں کے امام )کی شہادت نقل کرتے ہیں۔اگر تو رو سیاہی اورذلّت سے ڈرتا ہے تو یہ شہادت تیرے لئے کافی ہے۔اور ہم نے مناسب سمجھا ہے کہ ہم اس شہادت کو علیحدہ حاشیہ۱؎ میں نقل کریں۔منہ ۱؎ یہ حاشیہ اس اشتہار کے آخر میں درج ہے۔( مرتب )