مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 200
فاقام سلسلۃ بموسٰی واتمّھا بعیسٰی۔وھو اٰخرلبنۃٍ لھا۔ثم توجہ الٰی بنی اسماعیل فاقام سلسلۃ نبینا المصطفٰی۔وجعلہ مثیل الکلیم لیری المقابلۃ فی کل ما اتٰی۔وختم ھٰذہ السلسلۃ علٰی مثیل عیسٰی۔لیتم النعمۃ علی ھٰذہ السلسلۃ کما اتمھا علی السلسلۃ بقیہ ترجمہ۔اور عیسیٰ علیہ السّلام کے ساتھ اس سلسلہ کو مکمل کیا اور آپ اس سلسلہ کی آخری اینٹ تھے۔پھر وہ بنو اسمعٰیل کو طرف متوجہ ہوا۔اور اُن میں ہمارے نبی اکرم صلے اللہ علیہ وسلم کا سلسلہ قائم کیا۔اور آپ کو موسیٰ کلیم اللہ کا مثیل بنایا تا وہ ہربات میں ان دونوں سلسلوں کا تقابل دکھائے اور اس سلسلہ ( محمدیہ )کومثیل عیسیٰ پر ختم کیا۔تا وہ اس نعمت کو اس سلسلہ پر پہلے سلسلہ کی طرح مکمل کرے۔بقیۃ الحاشیۃ۔الاوّل ویامرکل فرقۃ من الیھود والنصارٰی ان یثبتوا علی شرائعھم یتمسکوا بکتبھم ویکفیھم ھٰذا لنجاتھم وان ھٰذا الاجمع الضدّین واختلاف فی القراٰن۔واللّٰہ نزّہ کتابہ عن الاختلاف بقولہ ۔۱؎ بل الاٰیۃ التی حَرَّف المُعتَرِض معناھا کمثل الیھود تشیر الی ان بشارۃ نبینا صلی اللّٰہ علیہ وسلم کانت موجودۃً فی التورات والانجیل فکان اللّٰہ یقول مالھم لایعملون علٰی وصایا التوراۃ والانجیل ولایُسلمون۔بقیہ ترجمہ حاشیہ۔اپنی پہلی بات کو بھول جائے اور یہود اور نصاریٰ کے ہر فرقہ کو اس بات کا حکم دے کہ وہ اپنی شرائع میں ثابت قدم رہیں اور اپنی کتابوں کومضبوطی سے پکڑے رکھیں اور یہ ان کی نجات کے لئے کافی ہے۔یہ تو اجتماع ضدین ہے اور قرآن کریم میں اختلاف ہے۔اور اللہ تعالیٰ نے یہ کہہ کر اپنی کتاب کو اختلاف سے پاک ٹھہرا دیا ہے کہ ۔بلکہ وہ آیت جس کے معنی کو معترض نے یہود کی طرح محرف و مبدّل کر دیا ہے۔وہ تو ہمارے نبی صلے اللہ علیہ وسلم سے متعلق اس بشارت کی طرف اشارہ کرتی ہے جو تورات اور انجیل میں موجود تھی گویا خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ انہیں کیا ہو گیا ہے کہ وہ تورات اور انجیل کی وصایا پر عمل نہیں کرتے اور اسلام قبول نہیں کرتے۔النساء ۸۳