مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 195
واستکبروا لعلھم یرجعون۔فکما انہ خلق الازواج کلّھا کذالک جعل السلسلۃ الاسماعیلیۃ زوجًا للسلسلۃ الاسرائیلیۃ۔وذالک امرنطق بہ القراٰن ولا ینکرہ الاالعمون۔الا تری قولہ تعالٰی فی سورۃ الجاثیۃ۔۔ ۔ ۔۱؎ فانظر کیف ذکر اللّٰہ تعالٰی ھٰھنا سلسلتین متقابلتین سلسلۃ موسٰی الٰی عیسٰی۔وسلسلۃ نبینا خیر الوریٰ الی المسیح الموعود الذی جاء فی زمنکم ھٰذا۔وانہ ماجاء من القریش کما ان عیسٰی ماجاء من بنی اسرائیل۔وانہ علم لساعۃ کافۃ الناس کما بقیہ ترجمہ۔دلوں کو جلایا تا وہ رجوع کریں۔پس جیسا کہ اللہ نے تمام جوڑے پیدا کئے ہیں اسی طرح اللہ نے سلسلہ اسماعیلیہ کو سلسلہ اسرائیلیہ کا جوڑا بنایا۔او ر یہ وہ نکتہ ہے جسے قرآن کریم نے بیان کیا ہے اور جس کا انکار صرف اندھے ہی کر سکتے ہیں۔کیا تو اللہ تعالیٰ کا قول نہیں دیکھتاجو سورہ جاثیہ میں فرمایا ہے۔۔ ۔ ۔پس دیکھ کہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں دو متقابل سلسلوں کو ( حضرت موسیٰؑ سے حضرت عیسٰی ؑ تک کے سلسلہ اور ہمارے نبی اکرم صلے اللہ علیہ وسلم سے اس مسیح موعودتک کے سلسلہ کو جو تمہارے اس زمانہ میں آیا) کس طرح بیان کیا ہے۔اور پھر یہ کہ وہ (مسیح موعود)قریش سے نہیں آیا جیسا کہ عیسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل سے نہیں آئے تھے اور یہ کہ وہ تمام لوگوں ۱؎ الجاثیۃ : ۱۷ تا ۱۹