مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 192
الامانی۔کماھوسیرۃ الاسیر والعانی۔فاشاعوا الاصولین المذکورین کما تعلم وترٰی۔ووفّوا حق العمٰی۔ولما صار اعتقاد نزول المسیح جزو طبیعتھم۔واحاط علی مجاری الفھم وعادتھم۔کانت عنایتھم مصروفۃ لامحالۃ الی نزول عیسٰی۔لیھلک اعداء ھم ویجلسھم علی سرر العزۃ والعُلٰی۔فھٰذا ھوسبب سریان ھٰذہ العقیدۃ فی الفِرق المسیحیۃ۔ومثلھم فی الاسلام یوجدفی الشیعۃ۔فانّہ لمّا طال علیھم امد الحرمان۔وما قام فیھم ملک الی قرون منالزمان۔نحتوا من عند انفسھم ان مھدیھم مستتر فی مغارۃ۔ویخرج فی اٰخرالزمان و یحیی صحابۃ رسول اللّٰہ لیقتلھم بِاذِیّۃٍ۔وان حسینًا بن علی وان کان مانجّاھم من ظلم یزید۔ولٰکن ینجّیھم بدمہ فی الیوم الاٰخرمن عذاب شدید۔وکذالک کل من خسر وخاب نَحَتَ ھٰذا الجواب۔وسمعت ان فرقۃ من الوھابیین بقیہ ترجمہ۔جیسا کہ ایک قیدی کی سیرت ہے۔پس انہوں نے جیسا کہ تو جانتا اور دیکھتا ہے ان دونوں اصولوں کی اشاعت کی اور انہوں نے نابینائی کا حق ادا کیا۔اور جب نزول مسیح کا عقیدہ ان کی طبیعت کا جزو بن گیا اور ان کی عادت کے راستوں پر چھا گیا تو ان کی توجہ لامحالہ نزول عیسیٰ کی طرف منعطف ہوئی۔تا وہ ان کے دشمنوں کو ہلاک کرے۔اور انہیں عزت اور بلندی کے تختوں پر بٹھائے۔غرض مسیحی فرقوں میں اس عقیدہ کے شائع ہونے کا یہی سبب ہے۔اور اسلام میں ان کی مثال شیعوں میں پائی جاتی ہے۔جب ان پر محرومی کا عرصہ لمبا ہو گیا۔اور صدیوں تک ان میں کوئی بادشاہ نہ ہوا تو انہوں نے اپنی طرف سے یہ عقیدہ گھڑا کہ ان کا مہدی غار میں چھپا ہوا ہے۔اور وہ آخری زمانہ میں باہر نکلے گا اور رسول کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کے صحابہ بھی زندہ کئے جائیں گے۔تا وہ انہیں اذیّت دے دے کر قتل کرے۔اور حسین بن علیؓ نے تو انہیں یزید کے ظلم سے نجات نہ دلائی۔لیکن وہ آخرت میں اپنے خون کے ساتھ انہیں عذاب شدید سے نجات دلائے گا۔اور اس طرح ہر وہ شخص جس نے بھی خسارہ اُٹھایا اور ناکام ہوا۔اس نے یہی جواب گھڑا۔اور مَیں نے سنا ہے کہ ہندوستانی وہابیوں کا ایک فرقہ بھی ان