مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 165
ہے اور ہماری طرف سے ہے۔چنانچہ پیر جھنڈے والا سندھی نے جن کے مُرید لاکھ سے بھی کچھ زیادہ ہوں گے یہی اپنا کشف اپنے مریدوں میں شائع کیا اور دیگر صالح لوگوں نے بھی دو سو مرتبہ سے بھی کچھ زیادہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے صاف بقیہ حاشیہ۔ہے۔اگرچہ اس بارے میں انہوں نے ایک اپنا الہام مجھے بھی لکھا تھا لیکن میری شہادت یہ لوگ کب قبول کریں گے۔اس لئے مَیں عبد اللہ صاحب کے اس بیان کی تصدیق کے لئے وہ دو گواہ پیش کرتا ہوںجو منشی صاحب کے دوستوں میں سے ہیں۔(۱) ایک حافظ محمد یوسف صاحب جو منشی الٰہی بخش صاحب کے دوست ہیں ممکن تھا کہ حافظ صاحب منشی صاحب کی دوستی کے لحاظ سے اس گواہی سے انکار کریں لیکن ہمیں ان کا قائل کرنے کے لئے وہ ثبوت مل گیا ہے جس سے وہ اب قابو میں آ گئے ہیں۔عین مجلس میں وہ ثبوت پیش کیا جائے گا۔(۲) دوسرا گواہ اس بار ہ میں اُن کے بھائی منشی محمد یعقوب ہیں۔ان کی بھی دستخطی تحریر موجود ہے۔اب منشی الہٰی بخش صاحب کا فرض ہے کہ ایک جلسہ کر کے اور ان دونوں صاحبوں کو اس جلسہ میں بُلا کر میرے رو برو یا کسی ایسے شخص کے رو برو جو مَیں اس کو اپنی جگہ مقرر کروں حافظ صاحب اور منشی محمد یعقوب صاحب سے یہ شہادت حلفاً دریافت کریں۔اور اگر حافظ صاحب نے ایمان کو خیر باد کہہ کر انکار کیا تو اس ثبوت کو دیکھیں جو ہماری طرف سے پیش ہو گا اور پھر آپ ہی انصاف کر لیں۔اسی پر منشی صاحب کے تمام الہامات پر قیاس کر لیا جائے گا جبکہ اُن کے پہلے الہام نے ہی مُرشد کی پگڑی اُتاری اور اُن کا نام خر رکھا بلکہ سب خروں سے زیادہ کیونکہ وہی تواوّل المصدقین ہیں تو پھر دوسروں کی حقیقت خود سمجھ لو۔ہاں وہ جواب دے سکتے ہیں کہ میرے الہام نے جیسا کہ میرے مُرشد پر حملہ کر کے اس کو بے عزت کیا ایسا ہی میری عزت بھی تو اس سے محفوظ نہیں رہی کیونکہ وہ الہام جو انہوں نے اپنی کتاب عصائے موسیٰ کے صفحہ ۳۵۵ میںلکھا ہے یعنی اِنّیْ مُھِیْنٌٔ لِّمَنْ اَرَادَاِھَانَتَکَ جو بوجہ صلہ لام کے اس جگہ بموجب قاعدہ نحو کے فریق مقابل کو حق انتفاع بخشتا ہے۔اس کے یہ معنی ہوتے ہیں جو مَیں تیرے مخالف کی تائید اور نُصرت کے لئے تجھے ذلیل کروں گا اور رُسوا کروں گا۔اور اگر کہو کہ اس میں سہو کاتب ہے اور دراصل لام نہیں ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہی الہام اس کتاب میںکئی جگہ نام کے ساتھ بار بار آیا ہے بلکہ کتاب کے اوّل میں بھی اور آخر