مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 148
راست باز ہونا بھی ثابت ہے۔کیونکہ بموجب آیت لَا ۱؎ صرف پاک باطن لوگوں کو ہی کتاب عزیز کا علم دیا جاتا ہے۔لیکن صرف دعویٰ قابل تسلیم نہیں بلکہ ہر ایک چیز کا قدر امتحان سے ہو سکتا ہے۔اور امتحان کا ذریعہ مقابلہ ہے کیونکہ روشنی ظلمت سے ہی شناخت کی جاتی ہے۔اور چونکہ مجھے خدا تعالیٰ نے اس الہام سے مشرف فرمایا کہ اَلرَّحْمٰنُ عَلَّمَ الْقُرْاٰنُ کہ خدا نے تجھے قرآن سکھلایا اس لئے میرے لئے صدق یا کذب کے پرکھنے کے لئے یہ نشان کافی ہو گا کہ پیر مہر علی شاہ صاحب میرے مقابل پر کسی سورۃ قرآن شریف کی عربی فصیح بلیغ میں تفسیرلکھیں۔اگر وہ فائق اور غالب رہے تو پھر ان کی بزرگی ماننے میں مجھ کو کلام نہیں ہو گا۔پس مَیں نے اس امر کو قرار دے کر ان کی دعوت میں اشتہار شایع کیا جس میں سراسر نیک نیتی سے کام لیا گیا تھا لیکن اس کے جواب میں جس چال کو انہوں نے اختیار کیا ہے۔اس سے صاف ثابت ہو گیا کہ اُن کو قرآن شریف سے کچھ بھی مناسبت نہیں اور نہ علم میں کچھ دخل ہے یعنی انہوں نے صاف گریز کی راہ اختیار کی۔اور جیسا کہ عام چال بازوں کا دستور ہوتا ہے۔یہ اشتہار شایع کیا کہ اوّل مجھ سے حدیث اور قرآن سے اپنے عقائد میں فیصلہ کر لیں پھر اگر مولوی محمد حسین اور ان کے دوسرے دو رفیق کہہ دیں کہ مہر علی شاہ کے عقائد صحیح ہیں تو بلا توقف اسی وقت میری بیعت کر لیں۔پھر بیعت کے بعد عربی تفسیر لکھنے کی بھی اجازت دی جائے گی مجھے اس جواب کو پڑھ کر بلا اختیار ان کی حالت پر رونا آیا ا ور ان کی حق طلبی کی نسبت جو امیدیں تھیں۔سب خاک میں مل گئیں۔اب اس اشتہار لکھنے کا یہ موجب نہیں ہے کہ ہمیں ان کی ذات پر کچھ امید باقی ہے بلکہ یہ موجب ہے کہ باوصف اس کے کہ اس معاملہ کو دو مہینے سے زیادہ عرصہ گزر گیا مگر اب تک ان کے متعلقین سبّ وشتم سے باز نہیں آتے۲؎ اور ہفتہ میں کوئی نہ کوئی ایسا اشتہار پہنچ جاتا ہے جس میں پیر ۱؎ الواقعۃ : ۸۰ ۲؎ منشی الہٰی بخش صاحب اکونٹنٹ نے بھی اپنی کتاب عصائے موسیٰ میں پیر صاحب کوئی جھوٹی فتح کا ذکر کر کے جو چاہا کہا ہے۔بات تو تب ہے کہ کوئی انسان حیا اور انصاف کی پابندی کرکے کوئی امرثابت بھی کرے۔ظاہر ہے کہ اگر منشی صاحب کے نزدیک پیر مہر علی شاہ صاحب علم قرآن اور زبان عربی سے