مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 134
قول اور فعل کے ذمہ دار ہو جائیں جو پیر صاحب کے ساتھ ہیں اور نیزان کے دوسرے لاہوری مریدوں خوش عقیدوں اور مولویوں کی گفتار کردار کی ذمہ داری اپنے سر پر لیں۔جو کھلے کھلے طور پر میری نسبت کہہ رہے ہیں اور لاہور میں فتوے دے رہے ہیں کہ یہ شخص واجب القتل ہے۔ان چند سطروں کے بعد جو ہرسہ معزز رئیسان مذکورین بالا اپنی ذمہ داری سے اپنے دستخطوں کے ساتھ شائع کر دیں گے اور پیر صاحب کے مذکور ہ بالا اشتہار کے بعد پھر مَیں اگر بلا توقف لاہور میں نہ پہنچ جائوں تو کاذب ٹھہروں گا۔ہر ایک شخص جو نیک مزاج اور انصاف پسند ہے اگر اس نے لاہور میں پیرمہر علی شاہ صاحب کی جماعت کا شور و غوغا سُنا ہو گا اور ان گالیوں اور بد زبانیوں اور سخت اشتعال کے حالات کو دیکھا ہو گا تو وہ اس بات میں مجھ سے اتفاق کرے گا کہ اس فتنہ اور اشتعال کے وقت میں بجز شہر کے رئیسوں کی پورے طور کی ذمہ داری کے لاہور میں قدم رکھنا گویا آگ میں قدم رکھنا ہے۔جو لوگ گورنمنٹ کے قانون کی بھی کچھ پرواہ نہ رکھ کر علانیہ فتویٰ پر فتویٰ میری نسبت دے رہے ہیں کہ یہ شخص واجب القتل ہے کیا ان کا وجود خطرناک نہیں ہے اور کیا شرع اور عقل فتویٰ دے سکتے ہیں کہ یہ پُر جوش اور مشتعل لوگوں کے مجمعوں میں بغیر کسی قانونی بندوبست کے مضائقہ نہیں ہے؟ بے شک لاہور کے معزز رئیسوں کا یہ فرض ہے کہ آئے دن کے فتنوں کے مٹانے کے لئے یہ ذمہ داری اپنے سر پر لے لیں اور اپنی خاص تحریروں کے ذریعہ سے مجھے لاہور میں بُلا لیں اور اگر پیر مہر علی شاہ صاحب بالمقابل عربی تفسیر لکھنے سے عاجز ہوں جیسا کہ درحقیقت یہی سچا امر ہے تو ایک اَور سہل طریق ہے جو وہ طرز مباحثہ کی نہیں جس کے ترک کے لئے میرا وعدہ ہے۔اور وہ طریق یہ ہے کہ اس کے ذمہ واری مذکورہ بالا کے بعد میں لاہور میں آئوں اور مجھے اجازت دی جائے کہ مجمع عام میں جس میں ہر سہ رئیس موصوفین بھی ہوں۔تین گھنٹہ تک اپنے دعوٰی اور دلائل کو پبلک کے سامنے بیان کروں۔پیر مہر علی شاہ صاحب کی طرف سے کوئی خطاب نہ ہوگا۔اور جب میں تقریر ختم کر چکوں تو پھر پیر مہر علی شاہ صاحب اُٹھیں اور وہ بھی تین گھنٹے تک پبلک کو