مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 127 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 127

جاتے ہیں۔۱؎ پس اس طرز کے مباحثہ اور اس طرز کے تین مولویوں کی گواہی سے اگر ثابت ہو گیا کہ درحقیقت پیر مہر علی شاہ صاحب تفسیر اور عربی نویسی میں تائید یافتہ لوگوں کی طرح ہیں اور مجھ سے یہ کام نہ ہو سکا یا مجھ سے بھی ہو سکا مگر انہوں نے بھی میرے مقابلہ پر ایسا ہی کر دیکھایا توتمام دنیا گواہ رہے کہ مَیں اقرار کروں گا کہ حق پیر مہرعلی شاہ کے ساتھ ہے اور اس صورت میں مَیں یہ بھی اقرار کرتا ہوںکہ اپنی تمام کتابیں جو اس دعوے کے متعلق ہیں جلا دوں گا اور اپنے تئیں مخذول اور مردود سمجھ لوں گا۔میری طرف سے یہی تحریر کافی ہے جس کو مَیں آج بہ ثبت شہادت بیس گواہان کے اس وقت لکھتا ہوں لیکن اگر میرے خدا نے اس مباحثہ میں مجھے غالب کر دیا اور مہر علی شاہ صاحب کی زبان بند ہو گئی۔نہ وہ فصیح عربی پر قادر ہو سکے اور نہ وہ حقایق و معارف سورہ قرآنی میں سے کچھ لکھ سکے یا یہ کہ اس مباحثہ سے انہوں نے انکار کر دیا تو اس تمام صورتوں میں ان پر واجب ہو گا کہ وہ توبہ کر کے مجھ سے بیعت کریں اور لازم ہو گا کہ یہ اقرار صاف صاف لفظوں میں بذریعہ اشتہار دس دن کے عرصہ میں شائع کر دیں۔مَیں مکرر لکھتا ہوں کہ میرا غالب رہنا ۱؎ کافی ہو گا جو بیس ورق کا اندازہ اس قرآن کے ساتھ کیا جائے جو ۱۹۰۰ء میں مولوی نذیر احمد خانصاحب نے چھپوایا ہے۔منہ لکھا ہے اور تفردفی فہم القرآن کا دعویٰ کیا ہے۔آپ اس اشتہار کے صفحہ ۳ کے اخیر پر باریک قلم سے لکھتے ہیں۔اگر وہ اپنی کتاب میں جہالت کا اقرار کرتے اور فقر کا بھی دم نہ مارتے تو اس دعوت کی کچھ ضرورت نہیں تھی۔الخ۔لاف زنی کی کیفیت تو ناظرین کو ملاحظہ صفحہ مذکورہ سے معلوم ہو جائے گی۔بھلا آپ یہ تو فرمائیے کہ جب آپ اپنی دعوت میں مامور من اللہ ہیں تو پھر لاف زنی پر اس دعوت کی بنا ٹھرانی قول بالتناقضین نہیں تو کیا ہے۔مرزا صاحب نیازمند کو مع علماکرام کے کسی قسم کا عناد یا حسد جناب کے ساتھ نہیں مگر کتاب اللہ و سنت رسول صلعم باعث انکار ہے۔انصاف فرماویں مثل مشہور کا مصداق نہ بنیں (نالے چورتے نالے چتر) ظاہر تو عشق محمدی صلعم اور قرآن کریم سے دم مارنا اور درپردہ کیا بلکہ اعلانیہ تحریف کتاب و سنت کرنی۔اور پھر