مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 125 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 125

کے پاس کوئی کتاب موجود نہ ہو اور نہ کوئی مددگاراور ضروری ہو گا کہ ہر ایک فریق چپکے چپکے بغیر آواز سُنانے کے اپنے ہاتھ سے لکھے تااس کی فصیح عبارت اور معارف کے سُننے سے دوسرا فریق کسی قسم کا اقتباس یا سرقہ نہ کر سکے اور اس تفسیر کے لکھنے کے لئے ہر ایک فریق کو پورے سات گھنٹے مُہلت دی جائے گی اور زانوبہ زانو لکھنا ہو گا نہ کسی پردہ میں-ہر ایک فریق کو اختیار ہو گا کہ اپنی تسلّی کے لئے فریق ثانی کی تلاشی کر لے اس احتیاط سے کہ وہ پوشیدہ طور پر کسی کتاب سے مدد نہ لیتا ہو اور لکھنے کے لئے فریقین کو سات گھنٹہ کی مہلت ملے گی۔مگرایک ہی جلسہ میں اور ایک ہی دن میںاس تفسیر کو گواہوں کے رو برو ختم کرنا ہو گا۔اور جب فریقین لکھ چکیں تو وہ دونوں تفسیریں بعد دستخط تین اہل علم کو جن کا اہتمام حاضری و انتخاب پیر مہر علی شاہ صاحب کے ذمہ ہو گاسُنائی جائیں گی۔اور ان ہرسہ مولوی صاحبوں کا یہ کام ہو گا کہ وہ حلفاً یہ رائے ظاہر کریں کہ ان دونوں تفسیروں اور دونوں عربی عبارتوں میں سے کونسی تفسیر اور عبارت تائید رُوح القدس سے لکھی گئی ہے۔اورضروری ہو گا کہ ان تینوں عالموں میں سے کوئی اس عاجز کے سلسلہ میں داخل ہو اور نہ مہر علی شاہ کا مرید ہو اور مجھے منظور ہے کہ پیر مہر علی شاہ صاحب اس شہادت کے لئے ۱؎ الاحزاب : ۶۳ کی وجہ سے دھبہ لگا رہے ہیں۔علماء کرام کی تحریرات اور اہل دیانت و فہم کامل کی تقریرات اس پر شاہد ہیں۔تیز نویسی جونکہ بروز عیسوی و بروز محمدی سے بالکل اجنبی و برطرف ہے۔لہٰذا اس کو موخر رکھا جاوے گا۔اس شرط کی منظوری سے مع تاریخ مقررہ کے مشرف فرماویں۔نہایت ممنون ہو کر حاضر ہو جائوں گا قانون فطرت اور کرّات مرّات کا تجربہ مع شہادت () ۱؎ کے پیشین گوئی کر رہا ہے کہ آپ کو عین وقت بحث میں الہام سکوتی ہو جاویں آپ فرماویں۔اس کا کیا علاج ہو گا۔اپنے اشتہار میں اس الہام ضروری الوقوع کا مستثنیٰ نہ فرمانا صاف شہادت دے رہا ہے کہ ایسے الہامات عندیہ اور اپنے اختیاری ہیں ورنہ درصورت منجانب اللہ ہونے ان کے کیونکر زیرلحاظ نہ ہو اور مستثنیٰ نہ کئے جاویں۔یہ بھی مانا کہ منجانب اللہ ہیں تو پھر ان