مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 117
مَیں اخلاقی و اعتقادی و ایمانی کمزوریوں اور غلطیوں کی اصلاح کے لئے دُنیا میں بھیجا گیا ہوں اور میرا قدم حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے قدم پر ہے۔انہی معنوں سے مَیں مسیح موعود کہلاتا ہوں کیونکہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ محض فوق العادت نشانوں اور پاک تعلیم کے ذریعہ سے سچائی کو دنیا میں پھیلائوں۔میں اس بات کا مخالف ہوں کہ دین کے لئے تلوار اُٹھائی جائے اورمذہب کے لئے خدا کے بندوں کے خون کئے جائیں اور مَیں مامور ہوں کہ جہاں تک مجھ سے ہو سکے ان تمام غلطیوں کو مسلمانوں میں سے دُور کر دوں اور پاک اخلاق اور برُدباری اور حلم اور انصاف اور راستبازی کی راہوں کی طرف اُن کو بلائوں۔مَیں تمام مسلمانوں اور عیسائیوں اور ہندوئوں اور آریوں پر یہ بات ظاہر کرتا ہوں کہ دنیا میں کوئی میرا دشمن نہیں ہے۔مَیں بنی نوع سے ایسی محبت کرتا ہوں کہ جیسے والدہ مہربان اپنے بچوں سے بلکہ اس سے بڑھ کر۔مَیں صرف اُن باطل عقائد کا دشمن ہوں جن سے سچائی کا خون ہوتا ہے۔انسان کی ہمدردی میرا فرض ہے۔اور جھوٹ اور شرک اور ظلم اور ہر ایک بدعملی اور ناانصافی اور بداخلاقی سے بیزاری میرا اصول۔میری ہمدردی کے جوش کا اصل محرک یہ ہے کہ مَیں نے ایک سونے کی کان نکالی ہے اور مجھے جواہرات کے معدن پر اطلاع ہوئی ہے اور مجھے خوش قسمتی سے ایک چمکتا ہوا اور بے بہا ہیرا اُس کان سے ملا ہے اور اُس کی اس قدر قیمت ہے کہ اگر میں اپنے ان تمام بنی نوع بھائیوں میں وہ قیمت تقسیم کروں تو سب کے سب اُس شخص سے زیادہ دولتمند ہو جائیںگے جس کے پاس آج دنیا میں سب سے بڑھ کر سونا اور چاندی ہے۔وہ ہیرا کیا ہے؟ سچا خدا۔اور اس کو حاصل کرنا یہ ہے کہ اس کو پہچاننا اور سچا ایمان اس پر لانا اور سچی محبت کے ساتھ اس سے تعلق پیدا کرنا اور سچی برکات اس سے پانا۔پس اس قدر دولت پا کر سخت ظلم ہے کہ مَیں بنی نوع کو اس سے محروم رکھوں اور وہ بھوکے مریں اور مَیں عیش کروں۔یہ مجھ سے ہرگز نہیں ہوگا۔میرا دل ان کے فقر و فاقہ کو دیکھ کر کباب ہو جاتا ہے۔ان کی تاریکی اور تنگ گذرانی پر میری جان گھٹتی جانی ہے۔مَیں چاہتا ہوں کہ آسمانی مال سے اُن کے گھر بھر جائیں اور سچائی اور یقین کے جواہر ان کو اتنے ملیں کہ ان کے دامن استعداد پُر ہو جائیں۔