مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 104 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 104

اور اس تفسیر کے لکھنے کے لئے ہر ایک فریق کو پورے سات گھنٹے مُہلت دی جائے گی اور زانوبزانولکھنا ہو گا نہ کسی پردہ میں۔ہر ایک فریق کو اختیار ہو گا کہ اپنی تسلّی کے لئے فریق ثانی کی تلاشی کر لے اس احتیاط سے کہ وہ پوشیدہ طور پر کسی کتاب سے مدد نہ لیتا ہو اور لکھنے کے لئے فریقین کو سات گھنٹہ کی مہلت ملے گی۔مگرایک ہی جلسہ میں اور ایک ہی دن میں اس تفسیر کو گواہوں کے رو برو ختم کرنا ہو گا۔اور جب فریقین لکھ چکیں تو وہ دونوں تفسیریں بعد دستخط تین اہل علم کو جن کا اہتمام حاضری و انتخاب پیر مہر علی شاہ صاحب کے ذمہ ہو گا۔سُنائی جائیں گی۔اور اُن ہرسہ مولوی صاحبوں کا یہ کام ہو گا کہ وہ حلفاً یہ رائے ظاہر کریں کہ ان دونوں تفسیروں اور دونوں عربی عبارتوں میں سے کونسی تفسیر اور عبارت تائید رُوح القدس سے لکھی گئی ہے۔اورضروری ہو گا کہ اُن تینوں عالموں میں سے کوئی نہ اس عاجز کے سلسلہ میں داخل ہو اور نہ مہر علی شاہ کا مرید ہو اور مجھے منظور ہے کہ پیر مہر علی شاہ صاحب اس شہادت کے لئے مولوی محمد حسین بٹالوی اور مولوی عبد الجبار غزنوی اور مولوی عبد اللہ پروفیسر لاہوری کو یاتین اور مولوی منتخب کر یں جو اُن کے مُرید اور پیرو نہ ہوں۔۱؎ مگر ضروریہ ہو گا کہ یہ تینوں مولوی صاحبان حلفاًاپنی رائے ظاہر کریں کہ کس کی تفسیر اور عربی عبارت اعلیٰ درجہ اور تائیدالہٰی سے ہے۔لیکن یہ حلف اس حلف سے مشابہ ہونی چاہیے جس کا ذکر قرآن میں قذفِ محسنات کے باب میں ہے جس میں تین دفعہ قسم کھانا ضروری ہے۔اور دونوں فریق پر یہ واجب اور لازم ہو گا کہ ایسی تفسیر جس کا ذکر کیا گیا ہے کسی حالت میں بیس ورق سے کم نہ ہو۔اور ورق سے مراد اس اوسط درجہ کی تقطیع اورقلم کا ورق ہو گا جس پر پنجاب اور ہندوستان کے صد ہا قرآن شریف کے نسخے چھپے ہوئے پائے جاتے ہیں۔۲؎ پس اس طرز کے مباحثہ اور اس طرز کے تین مولویوں کی گواہی سے اگر ثابت ہو گیا کہ درحقیقت پیر مہر علی شاہ صاحب ۱؎ یہ اس شرط سے کہ مولوی محمد حسین وغیرہ اس دعوت سے گریز کر جائیں جو ضمیمہ اشتہار ہذا میں درج ہیں۔منہ ۲؎ کافی ہو گا جو بیس ورق کا اندازہ اُس قرآن کے ساتھ کیا جائے جو حال میں مولوی نذیر احمد خاں صاحب دہلوی نے چھپوایا ہے۔منہ