مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 102
کیا۔یا علیؓ مرتضیٰ نے اس نظارہ سے کچھ حصّہ لیا۔پھر تم کون اور تمہاری حیثیت کیا کہ مسیح موعود کو آسمان سے مع فرشتوں کے اُترتے دیکھو گے۔۱؎ !! خود قرآن ایسی رؤیت کا مکذّب ہے۔سو اے مسلمانوں کی نسل ان خیالات سے باز آ جائو! تمہاری آنکھوں کے سامنے بڑے بڑے نشان ظاہر ہوئے اور کسوف خسوف تم نے رمضان میں دیکھ لیا اور صدی میں سے بھی سترہ برس گذر گئے۔کیا اب تک مفاسد موجودہ کی اصلاح کے لئے مجدد پیدا نہ ہوا۔خدا سے ڈرو اور ضدّ اور حسد سے باز آ جائو۔اُس غیور سے ڈرو جس کا غضب کھا جانے والی آگ ہے۔اور اگر مہر علی شاہ صاحب اپنی ضد سے باز نہیں آتے تو مَیں فیصلہ کے لئے ایک سہل طریق پیش کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ قرآن شریف سے یہ ثابت ہے کہ جو لوگ درحقیقت خدا تعالیٰ کے راستباز بندے ہیں ان کے ساتھ تین طور سے خدا کی تائید ہوتی ہے۔(۱) ان میں اور ان کے غیر میں ایک فرق یعنی مابہ الامتیاز رکھا جاتا ہے اس لئے مقابلہ کے وقت بعض امور خارق عادت ان سے صادر ہوتے ہیں جو حریف مقابل سے صادر نہیں ہو سکتے جیسا کہ آیت یَجْعَلْ لَّکُمْ فُرْقَانًا ۲؎ اس کی شاہد ہے۔(۲) ان کو علم معارف قرآن دیا جاتاہے اور غیر کو نہیں دیا جاتا۔جیسا کہ آیت لَایَمَسُّہٗ اِلَّاالْمُطَھَّرُوْنَ ۳؎ اس کی شاہد ہے۔(۳) ان کی دعائیں اکثر قبول ہوجاتی ہیں اور غیر کی اس قدر نہیں ہوتیں جیسا کہ آیت اُدْعُوْنِیْ اَسْتَجِبْ لَکُمْ۴؎ اس کی گواہ ہے۔سو مناسب ہے کہ لاہور میں جو صدر مقام پنجاب ہے ۱؎ اس تحقیق سے ثابت ہے کہ اس علامت کا منتظر رہنا کہ جب مسیح موعود کا دعویٰ کرنے والا آسمان سے اُترتا نظر آئے گا تبھی ہم اس کو قبول کریں گے سخت حماقت ہے۔بلاشبہ ایسا مشاہدہ محال ہے۔اور اگر جائز ہوتا تو ضرور ہمارے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم معراج کی رات میں چڑھتے اور اُترتے دکھائی دیتے۔پس جو امر محال سے معلّق ہے۔وہ بھی محال اور باطل ہے۔منہ ۲؎ الانفال : ۳۰ ۳؎ الواقعۃ : ۸۰ ۴؎ المؤمن : ۶۱