مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 101
کے خیالات بالکل پست اور محدود ہوتے ہیں اس لئے وہ اپنے تمام ذخیرہ لغویات میں ایک بھی ایسی بات پیش نہیں کر سکتے جس کے اندر کچھ روشنی ہو۔معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ صرف اس دھوکہ میں پڑے ہوئے ہیں کہ بعض حدیثوں میں لکھا ہے کہ مسیح موعود آسمان سے نازل ہوگا۔حالانکہ کسی حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ کبھی اور کسی زمانہ میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام جسم عنصری کے ساتھ آسمان پر چڑھ گئے تھے یا کسی آخری زمانہ میں جسم عنصری کے ساتھ نازل ہوں گے۔اگر لکھا ہے تو کیوں ایسی حدیث پیش نہیں کرتے۔ناحق نزول کے لفظ کے الٹے معنے کرتے ہیں۔خدا کی کتابوں کا یہ قدیم محاورہ ہے کہ جو خدا کی طرف سے آتا ہے اس کی نسبت کہا جاتا ہے کہ وہ آسمان سے نازل ہوا۔دیکھو انجیل یوحنا باب۱ آیت ۳۸ اور اسی راز کی طرف اشارہ ہے سورۂ اِنَّا اَنْزَلْـنَاہُ فِیْ لَیْلَۃِ الْقَدْرِ ۱؎ میں اور نیز آیت ذِکْرًا رَّسُوْلًا ۲؎میں۔لیکن عوام جو جسمانی خیال کے ہوتے ہیں۔وہ ہر ایک بات کو جسمانی طور پر سمجھ لیتے ہیں۔یہ لوگ خیال نہیں کرتے کہ جیسے حضرت مسیح ان کے زعم میں فرشتوں کے ساتھ آسمان سے اُتریں گے۔ایسا ہی ان کا یہ بھی تو عقیدہ ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم بھی فرشتوں کے ساتھ آسمان پر گئے تھے بلکہ اس جگہ تو ایک براق بھی ساتھ تھا مگر کس نے آنحضرت ؐ کا چڑھنا اور اُترنا دیکھا۔اور نیز فرشتوں اور براق کو دیکھا؟ ظاہر ہے کہ منکر لوگ معراج کی رات میں نہ دیکھ سکے کہ فرشتے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو آسمان پر لے گئے۔اور نہ اُترتے دیکھ سکے۔اسی لئے انہوں نے شور مچا دیا کہ معراج جھوٹ ہے۔اب یہ لوگ جو ایسے مسیح کے منتظر ہیں جو آسمان سے فرشتوں کے ساتھ اُترتا نظر آئے گا یہ کس قدر خلاف سنت اﷲ ہے۔سیّد الرسلؐ تو آسمان پر چڑھتا یا اُترتا نظر نہ آیا تو کیا مسیح اُترتا نظر آجائے گا۔لَعْنَۃُ اﷲِ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ۔کیا ابوبکر صدیق ؓ نے سیّد المرسلین محمد مصطفیٰ صلی اﷲ علیہ وسلم کو مع فرشتوں کے معراج کی رات میں آسمان پر چڑھتے یا اُترتے دیکھا؟ یا عمر فاروقؓ نے اس مشاہدہ کا فخر حاصل ۱؎ القدر : ۲ ۲؎ الطلاق : ۱۱، ۱۲