مجموعہ اشتہارات (جلد 3)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 97 of 493

مجموعہ اشتہارات (جلد 3) — Page 97

رُک جائے۔سو اگرچہ ان حکمت عملی کی تحریروں سے مسلمانوں کو فائدہ تو ہوا اور وہ ایسے رنگ کا جواب پاکر ٹھنڈے ہو گئے لیکن مشکل یہ ہے کہ اب بھی آئے دن پادری صاحبوں کی طرف سے ایسی تحریریں نکلتی رہتی ہیں کہ جو زُود رنج اور تیز طبع مسلمان ان کی برداشت نہیں کر سکتے۔یہ نہایت خوفناک کارروائی ہے کہ ایک طرف تو پادری صاحبان یہ جھوٹا الزام مسلمانوں کو دیتے ہیں کہ ان کو قرآن میں ہمیشہ اور ہر ایک زمانہ میں جہاد کا حکم ہے گویا وہ ان کو جہاد کی رسم یاد دلاتے رہتے ہیں۔اور پھر تیز تحریریں نکال کر اُن میں اشتعال پیدا کرتے رہتے ہیں نہ معلوم کہ یہ لوگ کیسے سیدھے ہیں کہ یہ خیال نہیں کرتے کہ ان دونوں طریقوں کے ملانے سے ایک خوفناک نتیجہ کا احتمال ہے۔ہم بار ہا لکھ چکے ہیں کہ قرآن شریف ہر گز جہاد کی تعلیم نہیں دیتا۔اصلیت صرف اس قدر ہے کہ ابتدائی زمانہ میں بعض مخالفوں نے اسلام کو تلوار سے روکنا بلکہ نابود کرنا چاہا تھا سو اسلام نے اپنی حفاظت کے لئے اُن پر تلوار اُٹھائی اور اُنہی کی نسبت حکم تھا کہ یا قتل کئے جائیں اور یا اسلام لائیں۔سو یہ حکم مختص الزمان تھا ہمیشہ کے لئے نہیں تھا اور اسلام اُن بادشاہوں کی کارروائیوں کا ذمہ وار نہیں ہے جو نبوت کے زمانہ کے بعد سراسر غلطیوں یا خود غرضیوں کی وجہ سے ظہور میں آئیں۔اب جو شخص نادان مسلمانوں کو دھوکا دینے کے لئے بار بار جہاد کا مسئلہ یاد دلاتا ہے گویا وہ ان کی زہریلی عادت کو تحریک دینا چاہتا ہے۔کیا اچھا ہوتا کہ پادری صاحبان صحیح واقعات کو مد نظر رکھ کر اس بات پر زور دیتے کہ اسلام میں جہاد نہیں ہے اور نہ جبر سے مسلمان کرنے کا حکم ہے جس کتاب میںیہ آیت اب تک موجود ہے کہ  ۱؎ یعنی دین کے معاملہ میں زبردستی نہیں کرنی چاہیے۔کیا اس کی نسبت ہم ظن کر سکتے ہیں کہ وہ جہاد کی تعلیم دیتی ہے۔غرض اس جگہ ہم مولویوں کا کیا شکوہ کریں خود پادری صاحبوں کا ہمیں شکوہ ہے کہ وہ راہ انہوں نے اختیار نہیں کی جو درحقیقت سچی تھی اور گورنمنٹ کے مصالح کے لئے بھی مفید تھی۔اسی درد دل کی وجہ سے میں نے جناب نواب وائسرائے صاحب بہادر بالقابہ کی خدمت میں دو دفعہ درخواست کی تھی کہ کچھ مدت تک اس طریق بحث کو بند کر دیا جائے کہ ایک فریق دوسرے فریق ۱؎ البقرۃ : ۲۵۷