مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 81 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 81

مجموعہ اشتہارات جلد دوم عالم پر فرض ہو گا کہ اس کی تائید میں قرآن کی آیت سناوے فقط کوئی ترجمہ پیش نہ کرے۔اور عیسائی عالم پر فرض ہوگا کہ اپنے عقیدہ کے موافق اُس اصل کتاب کی عبارت پڑھے جس کے الفاظ کو وہ الہامی مانتا ہے فقط کسی ترجمہ کو نہ سُناوے اور آریہ پنڈت پر واجب ہوگا کہ وید کی اصل سنسکرت عبارت کا وہ مقام معہ ترجمہ سناوے اور یہ تمام عبارتیں تحریری مضمون میں معہ صحیح صحیح حوالہ کے لکھی ہوئی ہونا شرط ہے۔(۹) نویں یہ کہ ہر ایک قوم میں سے ایسا فاضل منتخب ہو کر آنا چاہیے جو اپنی الہامی کتاب پر نظر رکھتا ہو اور فی الواقعہ اس کو اس کتاب کا علم بھی ہو جس کتاب کی تائید میں وہ کلام کرتا ہے۔مثلاً اگر آریہ صاحب ہوں تو وہ ایسے چاہیے کہ وید کو بآسانی پڑھ سکتے ہوں۔اور اگر عیسائی صاحب ہوں تو ایسے چاہیے کہ بائیل کو اس کی اصل زبان میں پڑھ سکتے ہوں۔کیونکہ جو شخص آپ ہی بے خبر ہے اس کی تقریر محققوں کی نظر میں قابل اعتماد نہیں ٹھہر سکتی اور نہ کچھ وقعت اور عزت رکھتی ہے۔مگر جو صاحب کسی کتاب کے پابند نہیں جیسے برہمو اور دہر یہ وہ ان شرائط سے مستقلی ہیں۔(۱۰) یہ یادر ہے کہ یہ تمام تحریریں جو سُنائی جائیں گی اُردو میں ہوں گی۔اور الہامی کتابوں کی اصل عبارتیں اصل زبان میں لکھ کر اُردو میں اُن کا ترجمہ ہوگا۔ہاں ہر ایک صاحب کا اختیار ہوگا کہ اگر وہ اُردو میں اپنے مضمون کو لکھ نہ سکیں یا وہ کسی دن بیماری وغیرہ سے معذور ہوں تو وہ مضمون کو اپنے کسی ایسے رفیق کے سپرد کر دیں کہ ان کی تحریر کا ترجمہ اُردو میں کر کے یا انہیں کی اُردو تحریر حاضرین جلسہ کو سُنا دیں۔مگر اس تمام تحریر کے وہی ذمہ وار ہوں گے اور انہیں پر لازم ہوگا کہ اس تحریر پر دستخط کر کے ہمارے اس سکرتری کے حوالہ کریں جو اس کام کے لیے مقرر کیا گیا ہو۔اور وہ تمام تحریر انہیں کی تحریر متصور ہوگی۔(۱۱) گیارہویں کوئی صاحب تقریر کرنے والوں میں سے مجاز نہ ہوں گے کہ بغیر تحریر کے زبانی تقریر کریں اور نہ اس بات کے لیے مجاز ہوں گے کہ تحریر پڑھنے کے وقت کچھ زبانی کلمات اس میں ملاویں بلکہ وہ ایک ایسی تحریر اپنی طرف سے سنا ئیں گے جو خوشخط اُردو میں اور اُردو کے دستخط میں لکھی ہوئی ہوگی اور نیچے اس کے پورے پستہ کے ساتھ ان کے دستخط ہوں گے اور سُنانے کے بعد وہی تحریر