مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 73 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 73

مجموعه اشتہارات ۷۳ جلد دوم اُصول ہے کہ مسیح کی خودکشی نے تمام عبادتوں اور نیک کاموں اور نیک عملوں کو نکما اور بیچ کر دیا ہے اور ان کی ضرورت کچھ بھی باقی نہیں رہی ۔ کیا ایسے عقیدے کے لوگوں کی نسبت کچھ اُمید کر سکتے ہیں کہ وہ خدا تعالیٰ کی بندگی میں دل لگاویں اور سچے دل سے تمام بدکاریوں کو چھوڑ دیں۔ پھر جبکہ ایسے قابل شرم عقیدہ میں گرفتار ہو کر انواع اقسام کی غفلتوں اور فریبوں اور ناجائز کاموں میں گرفتار ہو رہے ہیں تو تعجب ہے کہ اپنے حال پر کچھ بھی نہیں روتے اور اپنی مصیبت پر ایک ذرہ ماتم نہیں کرتے۔ بلکہ خود اندھے ہوکر دوسروں پر کمی بصارت کی تہمت لگاتے ہیں۔ ہم سچ سچ کہتے ہیں کہ جس قدر باوانا تک صاحب کے اشعار میں توحید الہی کے متعلق اور سچی وحدانیت کے بیان کرنے میں عمدہ عمدہ مضامین پائے جاتے ہیں اگر وہ موجودہ انجیلوں میں پائے جاتے تو ہمیں بڑی ہی خوشی ہوتی۔ مگر ایسی جعلی کتابوں میں سچے حقائق اور معارف کیونکر پائے جائیں جو حقیقی خدادانی اور حقیقی خدا پرستی اور حقیقی نجات کے بھید سے بہت ہی دور جا پڑے ہیں ۔ نادانوں کے منہ پر ہر وقت کفارہ اور مسیح کی خودکشی اور ایک فانی انسان کا خدا ہونا چڑھا ہوا ہے اور باقی تمام اعمال صالحہ سے فراغت کر رکھی ہے۔ بیشک خدا کے بندوں اور اپنے بنی نوع کے لیے جان دینا اور انسان کی بھلائی کے لیے دُکھ اُٹھانا نہایت قابل تعریف امر ہے۔ مگر یہ بات ہرگز قابل تعریف نہیں کہ ایک شخص بے اصل و ہم پر بھروسہ کر کے کنوئیں میں کود پڑے کہ میرے مرنے سے لوگ نجات پا جائیں گے ۔ جان قربان کرنے کا یہ طریق تو بیشک صحیح ہے کہ خدا کے بندوں کی معقول طریقہ سے خدمت کریں اور ان کی بھلائی میں اپنے تمام انفاس خرچ کر دیں اور اُن کے لیے ایسی کوشش کریں کہ گویا اس راہ میں جان دے دیں۔ مگر یہ ہر گز صحیح نہیں ہے کہ اپنے سر پر پتھر مارلیں یا کنوئیں میں ڈوب مریں یا پھانسی لے لیں۔ اور پھر تصور کریں کہ اس بیجا حرکت سے رہیں کہ اس بے نوع انسان کو کچھ فائدہ پہنچے گا۔ عیسائیوں کو سمجھنا چاہیے کہ باوانا تک صاحب حقیقی نجات کی راہوں کو خوب معلوم کر چکے تھے۔ وہ خوب سمجھتے تھے کہ وہ پاک ذات بجز اپنی سعی اور کوشش کے نہیں ملتا۔ اور وہ خوب جانتے تھے کہ خدا ہر یک جان سے اُسی جان کی قربانی چاہتا ہے نہ کسی غیر کی۔ زید کی خودکشی بکر کے کام نہیں آتی ۔ بات یہی سچ ہے کہ خدا کو وہی پاتے ہیں جو آپ خدا کے ہو جاتے ہیں ۔ جو لوگ ہر یک