مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 72 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 72

مجموعہ اشتہارات ۷۲ جلد دوم کو نیک بنا سکتا ہے۔اصل حقیقت نجات کی خدا شناسی اور خدا پرستی پر ہے۔پس ایسے لوگ جو اس غلط نہی کے دوزخ میں پڑے ہوئے ہیں جو مریم کا صاحبزادہ ہی خدا ہے۔وہ کیسے حقیقی نجات کی امید رکھ سکتے ہیں۔انسان کی عملی اور اعتقادی غلطیاں ہی عذاب کی جڑ ہیں۔وہی درحقیقت خدا تعالیٰ کے غضب سے آگ کی صورت پر متمثل ہوں گی۔اور جس طرح پتھر پر سخت ضرب لگانے سے آگ نکلتی ہے اسی طرح غضب الہی کی ضرب انہیں بد اعتقادیوں اور بدعملیوں سے آگ کے شعلے نکالے گی اور وہی آگ بداعتقادوں اور بدکاروں کو کھا جائے گی جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ بجلی کی آگ کے ساتھ خود انسان کی اندرونی آگ شامل ہو جاتی ہے تب دونوں مل کر اس کو بھسم کر دیتی ہیں اسی طرح غضب الہی کی آگ بد اعتقادی اور بداعمالی کی آگ کے ساتھ ترکیب پا کر انسان کو جلا دے گی۔اسی طرف اشارہ کر کے اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے۔نَارُ اللهِ الْمُوْقَدَةُ الَّتِي تَطَّلِعُ عَلَى الْأَفْدَةِ لِ یعنی جہنم کیا چیز ہے وہ خدا کے غضب کی آگ ہے جو دلوں پر بھڑ کے گی۔یعنی وہ دل جو بداعمالی اور بداعتقادی کی آگ اپنے اندر رکھتے ہیں وہ غضب الہی کی آگ سے اپنے آگ کے شعلوں کو مشتعل کریں گے۔تب یہ دو نو ستم کی آگ باہم مل کر ایسا ہی اُن کو بھسم کرے گی جیسا کہ صاعقہ گرنے سے انسان بھسم ہو جاتا ہے۔پس نجات وہی پائے گا جو بد اعتقادی اور بدعملی کی آگ سے دُور رہے گا۔سو جولوگ ایسے طور کی زندگی بسر کرتے ہیں کہ نہ تو سچی خدا شناسی کی وجہ سے اُن کے اعتقاد درست ہیں اور نہ وہ بداعمالیوں سے باز رہتے ہیں۔بلکہ ایک جھوٹے کفارہ پر بھروسہ کر کے دلیری سے گناہ کرتے ہیں وہ کیونکر نجات پاسکتے ہیں۔یہ بیچارے اب تک سمجھے نہیں کہ در حقیقت ہر یک انسان کے اندر ہی دوزخ کا شعلہ اور اندر ہی نجات کا چشمہ ہے۔دوزخ کا شعلہ فرو ہونے سے خود نجات کا چشمہ جوش مارتا ہے۔اُس عالم میں خدا تعالیٰ یہ سب باتیں محسوسات کے رنگ میں مشاہدہ کرا دے گا اگر عیسائیوں کو اس بچے فلسفہ کی خبر ہوتی تو مارے شرمندگی کے کسی کو منہ نہ دکھا سکتے۔ہزاروں فسق و فجور اور مکر اور فریب کے ساتھ یہ دعویٰ کرنا کہ ہم گناہ سے پاک ہو گئے ہیں عجیب قسم کی چالا کی ہے جس مذہب کا یہ الهمزة: ۸،۷