مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 71 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 71

مجموعه اشتہارات اے جلد دوم کے لکھتا ہے کہ جن لوگوں کو آپ اب تک گورو سمجھے بیٹھے ہیں اور اُن سے روشنی پانے کی اُمید رکھتے ہیں ، وہ لوگ اس لائق نہیں ہیں کہ آپ کے تاریک دل کو روشن کریں۔ ہاں اس گور و یسوع مسیح میں یہ خاصیت ہے کہ کیسا ہی دل تاریک اور ناپاک کیوں نہ ہو وہ اس کو روشن اور پاک کر سکتا ہے غرض یہ کہ تم یسوع کو خدا کر کے مان لو۔ پھر تم خاصے پاک اور پوتر ہو جاؤ گے اور سب گناہ جھڑ جائیں گے اور منش سے دیوتا بن جاؤ گے ، مگر افسوس کہ یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ اگر انسانوں کو ہی خدا بنانا ہے تو کیا اس قسم کے خدا ہندوؤں میں کچھ کم ہیں ۔ باوا صاحب ہندوؤں کے مت سے کیوں بیزار ہوئے۔ اسی لیے تو ہوئے کہ اُن کا وید بھی فانی چیزوں کو خدا قرار دیتا ہے۔ اور پانی اور آگ اور ہوا اور سورج اور چاند کو پرستش کے لائق سمجھتا ہے اور اس سچے خدا سے بے خبر ہے جو ان سب چیزوں کو پیدا کرنے والا ہے۔ پھر جبکہ باوا صاحب اس سچے خدا پر ایمان لائے جس کی بے مثل اور کامل ذات پر زمین و آسمان گواہی دے رہا ہے۔ اور نہ صرف ایمان لائے بلکہ اس کے انوار کی برکتیں بھی حاصل کر لیں ۔ تو پھر اُن کے پیروؤں کی عقلمندی سے بہت بعید ہے کہ وہ اس تعلیم کے بعد جو اُن کو دی گئی ہے پھر باطل خداؤں کی طرف رجوع کریں۔ ہندو لوگ ہزار ہا برس ایسے خداؤں کی آزمائش کر چکے ہیں اور نہ سرسری طور پر بلکہ بہت تحقیق کے بعد ایسے خُدا اُن کو چھوڑنے پڑے۔ اب پھر اس جھوٹی کیمیا کی تمنا ان کی دانشمندی سے بہت دور ہے باوانا تک صاحب نے اُس خدا کا دامن پکڑا تھا جو مرنے اور جنم لینے سے پاک ہے اور جو لوگوں کے گناہ بخشنے کے لیے آپ لعنتی بننے کا محتاج نہیں اور نہ کسی کی جان بچانے کے لیے اپنی جان دینے کی اُس کو حاجت ہے۔ مگر ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ عیسائیوں کا یہ کیسا خدا ہے جس کو دوسروں کے چھوڑانے کے لیے بجز اپنے تئیں ہلاک کرنے کے اور کوئی تدبیر ہی نہیں سوجھتی۔ اگر در حقیقت زمین و آسمان کا مدبر اور مالک اور خالق یہی بیچارہ ہے تو پھر خدائی کا انتظام سخت خطرہ میں ہے۔ بیشک یہ خواہش تو نہایت عمدہ ہے جو انسان گناہ سے پاک ہو۔ مگر کیا گناہ سے پاک ہونے کا یہی طریق ہے کہ ہم کسی غیر آدمی کی خودکشی پر بھروسہ رکھ کر اپنے ذہن میں آپ ہی یہ فرض کر لیں کہ ہم گناہ سے پاک ہو گئے۔ بالخصوص ایسا آدمی جو انجیل میں خود اقرار کرتا ہے، جو میں نیک نہیں ۔ وہ کیونکر اپنے اقتدار سے دوسروں