مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 61 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 61

مجموعہ اشتہارات ۶۱ جلد دوم عزت اور سچائی اور بزرگی کی حمایت کی نیت سے لکھا ہے۔اور اس وقت اگر میری نظر کے سامنے کسی کی سخت باتیں اور دُشنام رہی ہے تو پادری ٹی ولیمس اور عمادالدین وغیرہ اور پادری فتح مسیح کی وہ گالیاں ہیں جو انہوں نے ہمارے سید و مولیٰ سید المطہرین رسول اللہ صلعم کے حق میں نہایت مکر وہ الفاظ میں لکھی ہیں پادری فتح مسیح کا خط اس وقت میرے سامنے پڑا ہے جس میں اس نا پاک طبع نے لکھا ہے کہ نعوذ باللہ وہ شخص یعنی آنحضرت ایک زانی آدمی تھا اور اس کے اعتراضات کارڈ نورالقرآن میں لکھ رہا ہوں۔ایسا ہی اس وقت پادری ٹی ویمس ریواڑی کا رسالہ میری نظر کے سامنے موجود ہے جس میں یہ لکھا ہے کہ نعوذ باللہ وہ شخص یعنی آنحضرت سرغنہ ڈکیتی، دغا باز ، زینب کا عاشق تھا جس نے زینب کو دیکھ کر بد خواہش کی ، چوری کرنے والا ، ڈکیتی کرانے والا ، بت پرست، ناحق کا خون کرنے والا تھا۔مرتے دم تک ڈکیتی اور لوٹ مار اس کا طریق رہا۔اب جب یہ گالیاں اس پاک کو دی جاتی ہیں جو تمام پاکوں کا سردار ہے پھر اگر اس پر ظلمت زمانہ میں مجھ کو بھی کسی نے دجال کہا یا شیطان کہا تو میں کیا افسوس کروں۔ان ہزاروں پتھروں میں سے جو اس پاکوں کے سردار پر پھینکے جاتے ہیں، اگر ایک دو پتھر میرے پر بھی پھینکے گئے تو مجھے فخر کرنا چاہیے کہ ظلمت نے مجھ سے بھی دشمنی کی جیسا کہ اس ٹور سے دشمنی کی۔مگر مجھے امرتسر کے مولویوں پر سخت افسوس ہے جنہوں نے واشگاف لکھ دیا ہے کہ یہ گالیاں تمہاری گالیوں سے کچھ بڑی نہیں۔افسوس کہ اگر یہ گالیاں ان کے باپ یا ماں کو دی جائیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دی گئیں تو کب کے عدالتوں میں استغاثہ کرنے کے لیے دوڑتے۔ہائے افسوس یہ دل کیسے پتھر ہو گئے۔اور آپ نے جو میرے حق میں گورنمنٹ کے باغی ہونے کا لفظ استعمال کیا ہے یہ شاید اس لیے کیا کہ آپ جانتے ہیں کہ نائش اور استغاثہ کرنے کی میری عادت نہیں ورنہ آپ ایسے صریح جھوٹ سے ضرور بچتے جس میں قانونی گرفت کے نیچے ایسا مدعی آ سکتا ہے۔آپ نے ایک واہیات بات بنا رکھی ہے کہ ہشت سالہ پیشگوئی ایسی تھی۔مگر آپ قانونی مواخذہ سے نہیں ڈرتے۔کیا آپ کی یہی دیانت ہے کہ اس بارہ میں نہ آپ نے کوئی میری تحریر دیکھی اور نہ تقریر سنی۔ناحق ایک غلط اور