مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 54 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 54

مجموعہ اشتہارات ۵۴ (۱۳۹) جلد دوم قابل توجہ ناظرین اس بات کو ناظرین یا درکھیں کہ عیسائی مذہب کے ذکر میں ہمیں اُسی طرز سے کلام کرنا ضروری تھا جیسا کہ وہ ہمارے مقابل پر کرتے ہیں۔عیسائی لوگ در حقیقت ہمارے اُس عیسی علیہ السلام کو نہیں مانتے جو اپنے تئیں صرف بندہ اور نبی کہتے تھے اور پہلے نبیوں کو راستباز جانتے تھے اور آنے والے نبی حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم پر سچے دل سے ایمان رکھتے تھے اور آنحضرت کے بارے میں پیشگوئی کی تھی بلکہ ایک شخص یسوع نام کو مانتے ہیں جس کا قرآن میں ذکر نہیں اور کہتے ہیں کہ اس شخص نے خدائی کا دعوی کیا اور پہلے نبیوں کو بثمار وغیرہ ناموں سے یاد کرتا تھا۔یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ شخص ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سخت مکذب تھا اور اس نے یہ بھی پیشگوئی کی تھی کہ میرے بعد سب جھوٹے ہی آئیں گے۔سو آپ لوگ خوب جانتے ہیں کہ قرآن شریف نے ایسے شخص پر ایمان لانے کے لیے ہمیں تعلیم نہیں دی بلکہ ایسے لوگوں کے حق میں صاف فرما دیا ہے کہ اگر کوئی انسان ہو کر خدائی کا دعوی کرے تو ہم اس کو جہنم میں ڈالیں لے گے۔اسی سبب سے ہم نے عیسائیوں کے یسوع کے ذکر کرنے کے وقت اُس ادب کا لحاظ نہیں رکھا جو نیچے آدمی کی نسبت رکھنا چاہیے۔ایسا آدمی اگر نا بینا نہ ہوتا تو یہ نہ کہتا کہ میرے بعد سب جھوٹے ہی آئیں گے اور اگر نیک اور ایماندار ہوتا تو خدائی کا دعویٰ نہ کرتا۔پڑھنے والوں کو چاہیے کہ ہمارے بعض سخت الفاظ کا مصداق حضرت عیسی علیہ السلام کو نہ سمجھ لیں بلکہ وہ کلمات اس یسوع کی نسبت لکھے گئے ہیں جس کا قرآن وحدیث میں نام ونشان نہیں۔یہ اعلان آریہ دھرم مطبوعہ ضیاء الاسلام پر لیس قادیان طبع اول کے ٹائیٹل کے آخری صفحہ پر درج ہے ) ل وَمَنْ يَقُل مِنْهُمْ إِلَى اللَّهُ مِنْ دُونِهِ فَذَلِكَ نَجْزِيهِ جَهَنَّمَ كَذَلِكَ نَجْزِي الظَّلِمِينَ (الانبياء:۳۰)