مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 52 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 52

مجموعہ اشتہارات ۵۲ جلد دوم ہوا۔پھر ان کتابوں کی تالیف کے بعد آج تک ہم خاموش رہے اور چود آل برس سے آج تک یا اگر ہوشیار پور کے مباحثہ سے حساب کرو تو نو برس سے آج تک ہم بالکل چپ رہے اور اس عرصہ میں طرح طرح کے گندے رسالے آریوں کی طرف سے نکلے اور گالیوں سے بھری ہوئی کتابیں اور اخبار میں انہوں نے شائع کیں مگر ہم نے بجز اعراض اور خاموشی کے اور کچھ بھی کارروائی نہیں کی پھر جب آریوں کا غلو حد سے زیادہ بڑھ گیا اور ان کی بے ادبیاں انتہا تک پہنچ گئیں تو اب یہ رسالہ آریہ دھرم لکھا گیا۔ہمارے بعض اندھے مولوی جو ہر یک بات میں ہم پر یہ الزام لگاتے ہیں اور آریوں اور عیسائیوں کو بالکل معذور سمجھ کر ہر یک سخت زبانی ہماری طرف منسوب کرتے ہیں ان کو کیا کہیں اور ان کی نسبت کیا لکھیں وہ تو بخل اور حسد کی زہر سے مر گئے اور ہمارے بغض سے اللہ اور رسول کے بھی دشمن ہو گئے۔اے سیہ دل لوگو! تمہیں صریح جھوٹ بولنا اور دن کو رات کہنا کس نے سکھایا گو یہ سچ ہے کہ ہم نے براھین میں ویدوں کا کچھ ذکر کیا مگر اس وقت ذکر کیا کہ جب دیا نند ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی ستیارتھ پر کاش میں صدہا گالیاں دے چکا اور اسلام کی سخت تو ہین کر چکا اور ہندو بچے ہر یک گلی کو چہ میں اسلام کے منہ پر تھوکنے لگے پس کیا اس وقت واجب نہ تھا کہ ہم بھی کچھ ویدوں کی حقیقت کھولیں اور آیہ کریمہ وَالَّذِينَ إِذَا أَصَابَهُمُ الْبَغْى هُمْ يَخْتَصِرُوْنَ کے پر عمل کر کے اپنے مولیٰ کو يم راضی کریں اور پھر اس وقت سے آج تک ہم خاموش رہے لیکن آریوں کی طرف سے اس قدر گندی کتابیں اور گندی اخبار میں تو ہین اسلام کے بارے میں اس وقت تک شائع ہوئیں کہ اگر ان کو جمع کریں تو ایک انبار لگتا ہے یہ کیسا خبث باطن ہے کہ مسلمان کہلا کر پھر ظلم کے طور پر ان لوگوں کو ہی حق بجانب سمجھتے ہیں جو سالہا سال سے ناحق شرارت اور افتراء کے طور پر اسلام کی توہین کر رہے ہیں۔اے مولویت کے نام کو داغ لگانے والو!!! ذرا سوچو کہ قرآن میں کیا حکم ہے کیا یہ روا ہے کہ ہم اسلام کی تو ہین کو چپکے سنے جائیں۔کیا یہ ایمان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں نکالی جائیں الشورى: ٢٠