مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 609
مجموعہ اشتہارات ۶۰۹ جلد دوم مجھ سے ہمکلام ہوتا ہے اور غیب کے بھید مجھ پر ظاہر کئے جاتے ہیں اور آسمانی نشان دکھلائے جاتے ہیں۔یہ مدعی یعنی یہ عاجز گورنمنٹ کے حکم سے ایک سال کے اندر ایک ایسا آسمانی نشان دکھلا دے، ایسا نشان جس کا مقابلہ کوئی قوم اور کوئی فرقہ جو زمین پر رہتے ہیں نہ کر سکے اور مسلمانوں کی قوموں یا دوسری قوموں میں سے کوئی ایسا ملہم اور خواب بین اور معجزہ نما پیدا نہ ہو سکے جو اس نشان کی ایک سال کے اندر نظیر پیش کرے اور ایسا ہی ان تمام مسلمانوں بلکہ ہر ایک قوم کے پیشواؤں کو جو اہم اور خدا کے مقرب ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، ہدایت اور فہمائش ہو کہ اگر وہ اپنے تئیں سچ پر اور خدا کے مقبول سمجھتے ہیں اور ان میں کوئی ایسا پاک دل ہے جس کو خدا نے ہمکلام ہونے کا شرف بخشا ہے اور الہی طاقت کے نمونے اس کو دیئے گئے ہیں تو وہ بھی ایک سال تک کوئی نشان دکھلاویں۔پھر بعد اس کے اگر ایک سال تک اس عاجز نے ایسا کوئی نشان نہ دکھلایا جو انسانی طاقتوں سے بالا تر اور انسانی ہاتھ کی ملونی سے بھی بلند تر ہو یا یہ کہ نشان تو دکھلایا مگر اس قسم کے نشان اور مسلمانوں یا اور قوموں سے بھی ظہور میں آگئے تو یہ سمجھا جائے کہ میں خدا کی طرف سے نہیں ہوں اور اس صورت میں مجھ کو کوئی سخت سزا دی جائے گوموت کی ہی سزا ہو کیونکہ اس صورت میں فساد کی تمام بنیا د میری طرف سے ہوگی اور مفسد کو سزا دینا قرین انصاف ہے۔اور خدا پر جھوٹ بولنے سے کوئی گناہ بدتر نہیں۔لیکن اگر خدا تعالیٰ نے ایک سال کی میعاد کے اندر میری مدد کی اور زمین کے رہنے والوں میں سے کوئی میرا مقابلہ نہ کر سکا تو پھر میں یہ چاہتا ہوں کہ یہ گورنمنت محسنہ میرے مخالفوں کو نرمی سے ہدایت کرے کہ اس نظارہ قدرت کے بعد شرم اور حیا سے کام لیں اور تمام مردی اور بہادری سچائی کے قبول کرنے میں ہے۔اس قدر عرض کر دینا پھر دوبارہ ضروری ہے کہ نشان اس قسم کا ہوگا کہ جو انسانی طاقتوں سے بالا تر ہو اور اس نکتہ چینی کی ایک ذرہ گنجائش نہ ہو کہ ممکن ہے کہ اس شخص نے ناجائز اسباب سے کام لیا ہو بلکہ جس طرح آفتاب اور ماہتاب کے طلوع اور غروب میں یہ ظن نہیں ہو سکتا کہ کسی انسان پیش از وقت اپنی حکمت عملی سے ان کو چڑھایا ہے یا غروب کر دیا ہے اسی طرح اس نشان میں بھی ایسا ظن کرنا محال ہو۔اس قسم کا فیصلہ صدہا نیک نتیجے پیدا کرے گا۔اور ممکن ہے کہ اس سے تمام قو میں ایک ہو