مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 602
مجموعہ اشتہارات ۶۰۲ جلد دوم دانشمند عزت قرار نہیں دے گا۔ان ریاستوں میں تو ہر ایک قسم کے لوگوں کے وظیفے مقرر ہیں جن میں سے بعض کے ناموں کا ذکر بھی قابل شرم ہے۔پھر اگر محد حسین کا وظیفہ بھی کسی نے مقرر کر دیا تو کس عزت کا موجب ہوا بلکہ اس جگہ تو وہ فقرہ یاد آتا ہے کہ بِئْسَ الْفَقِيْرُ عَلَى بَابِ الْأَمِيرِ۔غرض یہ پیشگوئی جو محمد حسین اور اس کے دور فیقوں کی نسبت تھی اعلیٰ درجہ پر پوری ہو گئی۔ہم قبول کرتے ہیں کہ ان لوگوں کی اس قسم کی ذلت نہیں ہوئی جواد فی طبقہ کے لوگوں کی ذلت ہوتی ہے مگر پیشگوئی میں پہلے سے اس کی تصریح تھی کہ مثلی ذلت ہوگی جیسا کہ پیشگوئی کا یہ فقرہ ہے۔جَزَاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ یعنی جس قسم کی ذلّت ان لوگوں نے پہنچائی اُسی قسم کی ذلت ان کو پہنچے گی۔اب ہم اس سوال کو ٹلی اور تبتی سے تو نہیں پوچھتے کیونکہ ان کی ذلت اور عزت دونوں طفیلی ہیں مگر جو شخص چاہے محمد حسین کو قرآن شریف ہاتھ میں دے کر حلفاً پوچھ لے کہ یہ مثلی ذلّت جوالہام سے مفہوم ہوتی ہے یہ تمہیں اور تمہارے رفیقوں کو پہنچ گئی یا نہیں؟ بے حیائی سے بات کو حد سے بڑھانا کسی شریف انسان کا کام نہیں ہے بلکہ گندوں اور سفلوں کا کام ہے۔لیکن ایک منصف مزاج سوچ سکتا ہے کہ الہام الہی میں یہ تو نہیں بتلایا گیا تھا کہ وہ ذلت کسی زدو کوب کے ذریعہ سے ہوگی یا کسی اور جسمانی ضرر سے یا خون کرنے سے وہ ذلت پہنچائی جائے گی بلکہ الہام الہی کے صاف اور صریح یہ لفظ تھے کہ ذلت صرف اس قسم کی ہوگی جس قسم کی ذلت ان لوگوں نے پہنچائی۔الہام موجود ہے۔ہزاروں آدمیوں میں چھپ کر شائع ہو چکا ہے۔پھر یہودیوں کی طرح اس میں تحریف کرنا اُس بے حیا انسان کا کام ہے جس کو نہ خدا تعالیٰ کا خوف ہے اور نہ انسانوں سے شرم ہے!! راق میرزاغلام احمد از قادیاں تاریخ طبع کے اردسمبر ۱۸۹۹ء مطبوعہ ضیاء الاسلام پر لیس قادیاں ( اس اشتہار کی اصل کاپی خلافت لائبریری ربوہ میں موجود ہے)