مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 601
مجموعہ اشتہارات ۶۰۱ جلد دوم یا کچھ منفعت ہوگی۔ماسوا اس کے کنز العمال کی کتاب المزارعة میں یعنی کھیفہ سے میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث موجود ہے لا تدخــل سـكـة الــحــرث على قوم الا اذلهم الله (طب۔عن ابی یمامہ ) یعنی کینی کا لوہا اور کسی قوم میں نہیں آتا جواس قوم کو ذلیل نہیں کرتا۔پھر اسی صفحہ میں ایک دوسری حدیث ہے انه صلى الله عليه وسلم رأى شيئًا من الة الحرث فقال لا يـدخـل هـذا بـيـت قـوم الادخله الذل (خ عن ابي امامة ) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آلہ زراعت کا دیکھا اور فرمایا کہ یہ آلہ کسی قوم کے گھر میں داخل نہیں ہوتا مگر اس قوم کو ذلیل کر دیتا ہے۔اب دیکھو ان احادیث سے صریح طور پر ثابت ہے کہ جہاں کاشت کاری کا آلہ ہو گا وہیں ذلت ہوگی۔اب ہم میاں ثناء اللہ کی بات مانیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی۔جو شخص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بات پر ایمان رکھتا ہے اس کو ماننا پڑے گا کہ کسی کے گلے میں کاشت کاری کا سامان پڑا یہ بھی ایک قسم کی ذلت سے ہے۔سو یہ تو میاں ثناء اللہ نے ہماری مدد کی کہ جس قسم کی ذلت کی ہمیں خبر بھی نہیں تھی ہمیں خبر دے دی۔ہمیں تو صرف پانچ قسم کی ذلت کی خبر تھی۔اس چھٹی قسم کی ذلت پر میاں ثناء اللہ کی معرفت اطلاع ہوئی۔اور رہی یہ بات کہ محمد حسین کا کسی ریاست میں وظیفہ مقرر ہو گیا ہے یہ ایسا امر ہے کہ اس کو کوئی كنز العمال جلد ۸ شائع کردہ دائرۃ المعارف نظامیہ حیدر آباد دکن ۱۳۱۴ھ (ناشر) کے عن ابی یمامہ کا تب سے سہو ا غلط لکھا گیا ہے درست عن ابی امامۃ ہے۔(ناشر) سے قرآن شریف میں یہ قسم مذکور ہے کہ یہودیوں نے آسمانی کھانے سے انکار کر کے حضرت موسیٰ سے زمین مانگی تھی اور ساگ اور عدس اور پیاز وغیرہ کے خواہشمند ہوئے تھے۔تب خدا نے ان کی یہ درخواست منظور کر کے فرمایا کہ تم نے زمین نہیں لی بلکہ اپنے لئے ذلت لے لی۔اگر چاہو تو قرآن شریف میں سے یہ تمام آیات غور سے پڑھو من بَقْلِهَا وَقِنَابِهَا وَفُوْمِهَا وَعَدَسِهَا اس آیت تک کہ وَضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الدِّئَةُ وَالْمَسْكَنَةُ اب اس جگہ اگر کچھ ان دونوں قصوں میں فرق ہے تو صرف یہی کہ یہودیوں نے حضرت موسیٰ سے زمین مانگی اور ذلت کی پیشگوئی سنی اور محمد حسین نے مسٹر جے ایم ڈوئی سے زمین مانگی مگر ہمیں معلوم نہیں کہ انہوں نے بھی کچھ فرمایا یا نہیں۔یہودیوں کا آسمانی کھانا من اور سلوی تھا اور محمد حسین کا آسمانی کھانا متوتلا نہ رزق تھا اب نمبر داری کی خواہش ہوئی دیکھیں نتیجہ کیا ہو۔منه البقرة: ٢٢