مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 597
مجموعہ اشتہارات ۵۹۷ جلد دوم جیسا کہ پیشگوئی میں شرط تھی کہ عبد الحق غزنوی اس وقت تک زندہ ہوگا کہ چوتھا لڑکا پیدا ہو جائے گا۔ایسا ہی ظہور میں آیا اور اب اس وقت تک کہ ۱۴؍ دسمبر ۱۸۹۹ء ہے ہر ایک شخص امرت سر میں جا کر تحقیق کر لے کہ عبد الحق اب تک زندہ ہے۔پس اس میں کیا شک ہے کہ یہ صاف صاف اور کھلی کھلی پیشگوئی محمد حسین اور اس کے گروہ کی عزت کا موجب نہیں ہو سکتی کیونکہ خدا نے ایسے انسان کی دعا کو قبول کر کے جو محمد حسین اور اس کے گروہ کی نظر میں کافر اور دجال ہے اس کی پیشگوئی کے مطابق عبد الحق غزنوی کی زندگی میں اس کو پسر چہارم عطا فرمایا یہ ایک تائید الہی ہے جو بجز صادق انسان کے اور کسی کے لئے ہر گز نہیں ہوسکتی۔پس جب کہ اس پیشگوئی کا میعاد کے اندر پورا ہو جانا اور عبدالحق کی زندگی میں ہی اس کا ظہور میں آنا میری عزت کا موجب ہوا تو بلا شبہ محمد حسین اور اس کے گروہ جعفر زٹلی وغیرہ کی ذلت کا موجب ہوا ہو گا۔یہ اور بات ہے کہ یہ لوگ ہر ایک بات میں اور ہر ایک موقعہ پر یہ کہتے رہیں کہ ہماری کچھ بھی ذلت نہیں ہوئی۔لیکن جو شخص منصف ہو کر ان تمام واقعات کو پڑھے گا اس کو تو بہر حال ماننا پڑے گا کہ بلاشبہ ذلت ہو چکی ہے۔اس جگہ ہمیں افسوس سے یہ بھی لکھنا پڑا ہے کہ پرچہ اخبار عام ۲۳ نومبر ۱۸۹۹ء میں ایک شخص ثناء اللہ نام امرت سری نے یہ مضمون چھپوایا ہے کہ اب تک مولوی محمد حسین کی کچھ بھی ذلّت نہیں ہوئی۔ہم حیران ہیں کہ اس صریح خلاف واقعہ امر کا کیا جواب لکھیں۔ہم نہیں جانتے کہ ثناء اللہ صاحب کے خیال میں ذلت کس کو کہتے ہیں۔ہاں ہم یہ قبول کرتے ہیں کہ ذلت کئی قسم کی ہوتی ہے اور انسانوں کے ہر ایک طبقہ کے مناسب حال ایک قسم کی ذلت ہے۔مثلاً زمینداروں میں سے ایک وہ ہیں جو فقط سرکاری دستک جاری ہونے سے اپنی ذلت خیال کرتے ہیں اور ان کے مقابل پر اس قسم کے زمیندار بھی دیکھے جاتے ہیں کہ قسط مالگذاری بر وقت ادا نہ ہونے کی وجہ سے تحصیل کے چپراسی ان کو پکڑ کر لے جاتے ہیں اور بوجہ نہ ادا ئیگی معاملہ کے سخت گوشمالی کرتے ہیں بلکہ بعض اوقات دو چار جوتے ان کو مار بھی دیتے ہیں۔اور وہ زمیندار ہنسی خوشی سے مار کھا لیتے ہیں اور ذرہ خیال نہیں کرتے کہ کچھ بھی ان کی بے عزتی ہوئی ہے اور ان سے بھی زیادہ بعض شریر چوہڑوں اور