مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 596 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 596

مجموعہ اشتہارات ۵۹۶ جلد دوم مستور الحال لوگ ہیں خواہ مرد ہیں خواہ عورتیں ہیں جن کا کوئی گناہ ثابت نہیں وہ سب بُری کے نام کے مستحق ہیں اور بغیر ثبوت ان پر کوئی تہمت لگا نا فسق ہے جس سے خدا تعالیٰ اس آیت میں منع فرماتا ہے کہ اگر کسی کو نبیوں اور رسولوں کی کچھ پرواہ نہ ہو اور اپنی ضد سے باز نہ آوے تو پھر ذرہ شرم کر کے اپنی عورتوں کی نسبت ہی کچھ انصاف کرے کہ کیا اگر ان پر کوئی شخص ان کی عفت کے مخالف کوئی ایسی ناپاک تہمت لگاوے جس کا کوئی ثبوت نہ ہو تو کیا وہ عورتیں آیت يَومِ بِه بَرِيئًا کی مصداق ٹھہر کر بری سمجھی جاسکتی ہیں اور ایسا تہمت لگانے والا سزا کے لائق ٹھہرتا ہے یا وہ محض اس حالت میں بری سمجھی جائیں گی جبکہ وہ اپنی صفائی اور پاک دامنی کے بارے میں عدالت میں گواہ گذرا نہیں اور جب تک وہ بذریعہ شہادتوں کے اپنی عفت کا عدالت میں ثبوت نہ دیں تب تک جو شخص چاہے ان کی عفت پر حملہ کیا کرے اور ان کو غیر بری قرار دے۔اور ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے آیت موصوفہ میں بار ثبوت تہمت لگانے والے پر رکھا ہے اور جب تک تہمت لگانے والا کسی گناہ کو ثابت نہ کرے تب تک تمام مردوں اور عورتوں کو بری کہلانے کے مستحق ٹھہرایا ہے۔پس قرآن اور زبان عرب کے رو سے بری کے معنے ایسے وسیع ہیں کہ جب تک کسی پر کسی جرم کا ثبوت نہ ہو وہ بُری کہلائے گا کیونکہ انسان کے لئے بری ہونا طبعی حالت ہے اور گناہ ایک عارضہ ہے جو پیچھے سے لاحق ہوتا ہے۔لہذا ہر ایک انسان جب تک اس کا کوئی جرم ثابت نہ ہو بُری کہلانے کا حقدار ہے کیونکہ طبیعی حالت بغیر کسی عارضہ لاحقہ کے دُور نہیں ہوسکتی۔ایک اور امر عظیم الشان ہے جو اشتہا ر ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء کی میعاد میں ظہور میں آیا جس سے اشتہار مذکورہ کی پیشگوئی کا پورا ہونا اور بھی وضاحت سے ثابت ہوتا ہے کیونکہ وہ پیشگوئی جو چوتھا لڑکا ہونے کے بارے میں ضمیمہ انجام آتھم کے صفحہ ۵۸ میں کیگئی تھی جس کے ساتھ یہ شرط تھی کہ عبد الحق غز نوی جو امرت سر میں مولوی عبدالجبار غزنوی کی جماعت میں رہتا ہے نہیں مرے گا جب تک یہ چوتھا لڑکا پیدا نہ ہولے۔وہ پیشگوئی اشتہار ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء کی میعاد کے اندر پوری ہوگئی اور وہ لڑکا بفضلہ تعالیٰ ۱۴ جون ۱۸۹۹ء کو مطابق ۴ صفر ۱۳۱۷ھ پیدا ہو گیا جس کا نام مبارک احمد رکھا گیا اور