مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 43
مجموعہ اشتہارات ۴۳ جلد دوم اور کیوں اس طریق کو اختیار نہ کیا جائے کہ مخالفوں کی تحریرات کا جواب ہی نہ دیں۔اس کے جواب میں عرض کیا جاتا ہے کہ اول تو کوئی مذہب بغیر دعوت اور امر معروف اور نہی منکر کے قائم نہیں رہ سکتا۔اور اگر ایسا ہونا فرض بھی کر لیں تو پھر اسلام جیسا کوئی مذہب مصیبت زدہ نہیں ہوگا کیونکہ جس حالت میں پادری صاحبان و آریہ صاحبان وغیرہ پورے زور وشور سے اسلام پر حملہ کر رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ اس کو نابود کر دیں اور ہر یک رنگ سے کیا علم طبعی کے نام سے اور کیا علم طب اور تشریح کے بہانہ سے اور کیا علم ہیئت کے پردہ میں انواع اقسام کے دھو کے لوگوں کو دے رہے ہیں اور ٹھیٹھے اور جنسی اور تحقیر کو انتہا تک پہنچا دیا ہے۔پھر اگر ہمارے معزز بھائیوں کی طرف سے یہی تدبیر ہے کہ چپ رہو اور سنے جاؤ تو یہ خاموشی مخالفوں کی یک طرفہ ڈگری کا موجب ہوگی اور نعوذ باللہ ہماری خاموشی ثابت کر دے گی کہ ہر یک الزام ان کا سچا ہے اور اگر ہم الزامی جواب دیں چنانچہ کئی سال سے دیئے جاتے ہیں تو کوئی ان کی طرف متوجہ نہیں ہوتا اور ہمارا وقت برباد جاتا ہے اور بار بار وہی باتیں اور وہی بہتان ہتک آمیز الفاظ کے ساتھ سناتے ہیں جو لوگ حیا اور شرم کو چھوڑ دیں ان کا منہ بجز قانون کے اور کون بند کرے۔اور ہم اپنے بھائیوں کے صوابدید سے کل مناظرات اور مباحثات اور تحریر اور تقریر سے دست بردار ہو سکتے ہیں اور چپ رہ سکتے ہیں مگر کیا ہمارے معزز بھائی ذمہ دار ہو سکتے ہیں کہ مخالفانہ حملہ کرنے سے ہندوستان کے تمام پادریوں اور آریوں اور برہموؤں کو بھی چپ کرا دیں گے اور اگر نہیں کرا سکتے اور ان کی گالیوں اور سب وشتم کی کوئی اور تدبیر ان کے ہاتھ میں نہیں تو پھر یہ بات کیوں حرام ہے کہ ہم اپنی محسن گورنمنٹ سے اس بارہ میں مدد لیں اور ان آئندہ خطرات سے اپنی قوم اور نیز دوسری قوموں کو بھی بچالیں جو ایسے بے قیدی کے مناظرات میں ضروری الوجود ہیں۔بھائیو یہ تدبیر عمدہ نہیں ہے کہ ہر روز ہم گالیاں سنیں اور روا رکھیں کہ ہندوؤں کے لڑکے بازاروں میں بیٹھ کر اور عیسائیوں کی جماعتیں ہر یک کوچہ گلی میں ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو گندی گالیاں نکالیں اور آئے دن پر تو ہین کتابیں شائع کریں بلکہ اس وقت ضروری تدبیر یہ ہے کہ ایسے لوگوں کا منہ بند کرنے کے لئے سرکاری قانون سے مدد لیں۔اور اس درخواست کے موافق جو