مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 557
مجموعه اشتہارات ۵۵۷ جلد دوم پاک تر ہو گا ۔ تب ایسی کھلی کھلی سچائی کو دیکھ کر لوگوں کے خیالات میں ایک تبدیلی واقع ہوگی اور نیک طینت آدمیوں کے کینے ایک دفعہ رفع ہو جائیں گے ۔ مگر جیسا کہ میں نے ابھی بیان کیا ہے یہ میرا ہی خیال ہے ابھی کوئی الہامی تشریح نہیں ہے۔ میرے ساتھ خدا تعالیٰ کی عادت یہ ہے کہ کبھی کسی پیشگوئی میں مجھے اپنی طرف سے کوئی تشریح عنایت کرتا ہے اور کبھی مجھے میرے فہم پر ہی چھوڑ دیتا ہے۔ مگر یہ تشریح جو ابھی میں نے کی ہے اس کی ایک خواب بھی مؤید ہے جو ابھی ۲۱ اکتوبر ۱۸۹۹ء کو میں نے دیکھی ہے اور وہ یہ ہے کہ میں نے خواب میں محبی اخویم مفتی محمد صادق کو دیکھا ہے اور قبل اس کے جو میں اس خواب کی تفصیل بیان کروں اس قدر لکھنا فائدہ سے خالی نہیں ہوگا کہ مفتی محمد صادق میری جماعت میں سے اور میرے مخلص دوستوں میں سے ہیں جن کا گھر بھیرہ ضلع شاہ پور میں ہے مگر ان دنوں میں ان کی ملازمت لاہور میں ہے۔ یہ اپنے نام کی طرح ایک محب صادق ہیں مجھے افسوس ہے کہ میں اپنے اشتہار ۶ راکتو بر ۱۸۹۹ء میں سہواً اُن کا تذکرہ کرنا بھول گیا۔ وہ ہمیشہ میری دینی خدمات میں نہایت جوش سے مصروف ہیں خدا ان کو جزاء خیر دے۔ اب خواب کی تفصیل یہ ہے کہ میں نے مفتی صاحب موصوف کو خواب میں دیکھا کہ نہایت روشن اور چمکتا ہوا اُن کا چہرا ہے اور ایک لباس فاخرہ جو سفید ہے پہنے ہوئے ہیں اور ہم دونوں ایک بگھی میں سوار ہیں اور وہ لیٹے ہوئے ہیں اور ان کی کمر پر میں نے ہاتھ رکھا ہوا ہے، یہ خواب ہے اور اس کی تعبیر جو خدا تعالیٰ نے میرے دل میں ڈالی ہے یہ ہے کہ صدق جس سے میں محبت رکھتا ہوں ایک چمک کے ساتھ ظاہر ہوگا اور جیسا کہ میں نے صادق کو دیکھا ہے کہ اس کا چہرہ چمکتا ہے اسی طرح وہ وقت قریب ہے کہ میں بقیہ حاشیہ ۔ تیری کھیتیاں تو بہت نکلیں گی یعنی ہم تیری تمام حاجات کے متکفل ہیں ۔ ایسا ہی ایک اور دوسرا الہام ۔ متشابہات میں سے ہے۔ جو ۴ راکتو بر ۱۸۹۹ء کو ا ء کو مجھے ہوا۔ اور وہ یہ ہے کہ قیصر ہند ہند کی طرف سے شکریہ مر یہ اب یہ ایسا لفظ ہے کہ حیرت میں ڈالتا ہے کیونکہ میں ایک گوشہ نشین آدمی ہوں اور ہریک قابل پسند خدمت سے عاری اور قبل از موت اپنے تئیں مردہ سمجھتا ہوں۔ میرا شکر یہ کیسا ۔ سو ایسے الہام متشابہات میں سے ہوتے ہیں جب جب تک خود خدا ان کی حقیقت ظاہر نہ کرے۔ منہ