مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 556 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 556

مجموعه اشتہارات ۵۵۶ جلد دوم الہام کے ذریعہ سے جو خدا تعالیٰ لوگوں کے دلوں میں ڈالتا ہے اس شخص کو صادق کا خطاب دیتے ہیں لیے کیونکہ لوگ اُس کو صادق صادق کہنا کو صادق صادق کہنا شروع کر دیتے ہیں۔ اور لوگوں کا یہ خطاب ایسا ہوتا ہے کہ گویا خدا تعالیٰ نے آسمان سے خطاب دیا کیونکہ خدا تعالیٰ آپ ان کے دلوں میں یہ مضمون نازل کرتا ہے کہ لوگ اس کو صادق کہیں ۔ اب جہاں تک میں نے غور اور فکر کی ہے ہمیں اپنے اجتہاد سے نہ کسی الہامی تشریح سے اس الہام کے جس کو میں نے ابھی ذکر کیا ہے یہی معنے کرتا ہوں کیونکہ ان معنوں کے لئے اس الہام کا آخری فقرہ ایک بڑا قرینہ ہے کیونکہ آخری فقرہ یہ ہے کہ ایک بڑا نشان اس کے ساتھ ہو گا لہذا میں اپنے اجتہاد سے اس کے یہ معنی سمجھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اس جھگڑے کا فیصلہ کرنے کے لئے جو کسی حد تک پرانا ہو گیا ہے ۔ اور حد سے زیادہ تکذیب اور تکفیر ہو چکی ہے کوئی ایسا برکت اور رحمت اور فضل اور صلح کاری کا نشان ظاہر کرے گا کہ وہ انسانی ہاتھوں سے برتر اور لے اس خطاب کی مثال یہ ہے کہ جیسا کہ مصر کے بادشاہ فرعون نے حضرت یوسف علیہ السلام کو صدیق کا خطاب دیا کیونکہ بادشاہ نے جب دیکھا کہ اس شخص نے صدق اور پاک باطنی اور پر ہیز گاری کے محفوظ رکھنے کے لئے باراں برس کا جیلیخا نہ اپنے لئے منظور کیا مگر بدکاری کی درخواست کو نہ مانا بلکہ ایک لحظہ کے لئے بھی دل پلید نہ ہوا۔ تب بادشاہ نے اس راست باز کو صدیق کا خطاب دیا جیسا کہ قرآن شریف سورة يوسف میں يُوسُفُ أَيُّهَا ۱۲ الصدیق ۔ معلوم ہوتا ہے کہ انسانی خطابوں میں سے پہلا خطاب وہی تھا جو حضرت یوسف کو ملا ۔ منہ ے جس کے ساتھ خدا تعالیٰ کا معاملہ وحی اور الہام کے ساتھ ہو وہ خوب جانتا ہے کہ مسلمین کو کبھی اجتہادی طور پر بھی اپنے الہام کے معنے کرنے پڑتے ہیں ۔ اس طرح کے الہام بہت ہیں جو مجھے کئی دفعہ ہوئے ہیں اور بعض وقت ایسا الہام ہوتا ہے کہ حیرت ہوتی ہے کہ اس کے کیا معنی ہیں اور ایک مدت کے بعد اس کے معنے کھلتے ہیں ۔ مثلاً ۱۹ استمبر ۱۸۹۹ء کو خدا تعالیٰ نے مجھے مخاطب کر کے اپنا کلام مجھ پر نازل کیا ۔ إِنَّا أَخْرَجْنَا لَكَ زُرُوعًا يَا إِبْرَاهِيمُ یعنی اے ابراہیم ہم تیرے لئے ربیع کی کھیتیاں اگائیں گے ۔ زُرُوع زرع کی جمع ہے اور زرع عربی زبان میں ربیع کی کھیتی یعنی کنک و جو وغیرہ کو کہتے ہیں مگر آثار ا یسے نہیں ہیں کہ یہ الہام اپنے ظاہر معنوں کی رُو سے پورا ہو کیونکہ ربیع کی تخم ریزی کے ایام گویا گزر گئے لہذا مجھے صرف اجتہاد سے یہ معنے معلوم ہوتے ہیں کہ تجھے کیا غم ہے