مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 550 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 550

مجموعہ اشتہارات جلد دوم نے حضرت مسیح کو بلایا تھا اور ایک انگریز اس پر گواہی دیتا ہے کہ ضرور حضرت مسیح کو اس کا خط آیا تھا بلکہ وہ خط بھی اس انگریز نے اپنی کتاب میں لکھا ہے۔اس صورت میں یہ یقینی امر ہے کہ نصیبین میں بھی حضرت مسیح علیہ السلام کے اس سفر کی اب تک کچھ یادگار قائم ہوگی۔اور کچھ تعجب نہیں کہ وہاں بعض کتبے بھی پائے جائیں یا آپ کے بعض حواریوں کی وہاں قبریں ہوں جو شہرت پا چکی ہوں لہذا میرے نزدیک یہ قرین مصلحت قرار پایا ہے کہ تین دانشمند اور الوالعزم آدمی اپنی جماعت میں سے نصیبین میں بھیجے جائیں۔سو اُن کی آمد ورفت کے اخراجات کا انتظام ضروری ہے۔ایک اُن میں سے مرزا خدا بخش صاحب ہیں اور یہ ہمارے ایک نہایت مخلص اور جان نثار مرید ہیں جو اپنے شہر جھنگ سے ہجرت کر کے قادیان میں آرہے ہیں اور دن رات خدمت دین میں سرگرم ہیں۔اور ایسا اتفاق ہوا ہے کہ مرزا صاحب موصوف کا تمام سفر خرچ ایک مخلص با ہمت نے اپنے ذمہ لے لیا ہے اور وہ نہیں چاہتے کہ ان کا نام ظاہر کیا جائے۔مگر دو اور آدمی ہیں جو مرزا خدا بخش صاحب کے ہم سفر ہوں گے۔اُن کے سفر خرچ کا بندوبست قابل انتظام ہے۔سوامور متذکرہ بالا میں سے ایک یہ تیسرا امر ہے کہ ایسے نازک وقت میں جو پہلی دو شاخیں بھی امداد مالی کی سخت محتاج ہیں پیش آ گیا ہے۔اور یہ سفر میرے نزدیک ایسا ضروری ہے کہ گویا کسی شاعر کا یہ شعر اسی موقع کے حق میں ہے سے گر جاں طلبد مضائقہ نیست زر می طلبد سخن دریں سے خدا تعالیٰ کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔ممکن ہے کہ چند آدمی ہی ان تینوں شاخوں کا بندو بست کر سکیں کے غرض انہی تینوں شاخوں کے لئے نہایت ضروری سمجھ کر یہ اشتہار لکھا گیا ہے۔اے عقل مند و! خدا کے راضی کرنے یہ وقت ہے کہ پھر نہیں ملے گا۔میں تاکیڈا لکھتا ہوں کہ جو بقیہ حاشیہ۔دیا ہے عالی ہمتی اس کو کہتے ہیں کہ اس تھوڑی سی دنیوی معاش کے ساتھ اس قدر خدمت دینی کو شجاعت ایمانی سے بجالائے ہیں اور ایسا ہی میاں خیر الدین کشمیری سیکھواں نے اس سفر کے لئے اپنی حیثیت سے زیادہ ہمت کر کے دس روپیہ دیئے ہیں۔لے اگر محبوب جان مانگے تو کچھ پرواہ نہیں مشکل یہ ہے کہ وہ مال مانگتا ہے۔ے کابل اور کوہ نعمان میں بھیجنے کے لئے اسی نواح کے بعض آدمی تجویز کئے گئے ہیں کیونکہ وہ اس ملک اور اُن پہاڑوں کے خوب واقف ہیں۔