مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 522
مجموعہ اشتہارات ۵۲۲ جلد دوم میرے حالات میری انیس برس کی تعلیم سے ظاہر ہو سکتے ہیں کہ میں اپنی جماعت کو کیا تعلیم دے رہا ہوں۔ایسا ہی میرے حالات میری جماعت کے چال چلن سے معلوم ہو سکتے ہیں اور بہتیرے ان میں سے ایسے ہیں جو گورنمنٹ کی نظر میں نہایت نیک نام اور معزز عہدوں پر سرفراز ہیں۔ایسا ہی میرے حالات قصبہ قادیان کے عام لوگوں سے دریافت کرنے کے وقت معلوم ہو سکتے ہیں کہ میں نے اُن میں کس طرز کی زندگی بسر کی ہے۔ایسا ہی میرے حالات میرے والد صاحب مرزا غلام مرتضیٰ کی طرز زندگی سے معلوم ہو سکتے ہیں کہ گورنمنٹ انگلشیہ کی نظر میں کیسے تھے۔اور عجیب تریہ کہ محمد حسین جو ہر وقت میری ذلت کے در پئے ہے وہ اپنی اشاعۃ السنہ نمبر ۹ جلد نمبرے میں میری نسبت اقرار کرتا ہے کہ یہ شخص اعلیٰ درجہ کا پاک باطن اور نیک خیال اور سچائی کا حامی اور گورنمنٹ انگریزی کا نہایت درجہ خیر خواہ ہے۔یہ بھی گزارش کرنا ضروری ہے کہ اگر لیکھر ام کے مارے جانے کے وقت میں میری نسبت آریوں کو شکوک پیدا ہوئے تھے تو ان شکوک کی بنا بجز اس پیشگوئی کے اور کچھ نہ تھا جس کولیکھرام نے آپ مانگا تھا اور مجھ سے پہلے آپ مشتہر کیا تھا۔پھر اس میں میرے پر کیا الزام ہے۔نہ میں نے خود بخود پیشگوئی کی اور نہ میں نے اس کو مشتہر کیا۔اور اگر صرف شک پر لحاظ کیا جائے تو ہندوؤں نے سرسید احمد خان کے سی ایس آئی پر بھی قتل لیکھرام کا شبہ کیا تھا۔فقط خاکسار مرزا غلام احمد از قادیان ۲۰ جنوری ۱۸۹۹ء مطبوعہ ضیاء الاسلام پرلیس قادیان تعداد اشاعت (۱۰۰) تبلیغ رسالت جلد ۸ صفحه ۲۴ تا ۳۶)