مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 502 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 502

مجموعه اشتہارات ۵۰۲ جلد دوم شد و مد سے فتوے لکھے اور تمام علماء کے فتووں کا خلاصہ یہی ہے کہ انہوں نے اس خیانت پیشہ اور مہدی معہود کے منکر کو کافرد جال بے ایمان مفتری کذاب جہنمی دائرہ اسلام سے خارج گمراہ ضال مضل اور ایسا ہی دوسرے الفاظ سے یاد کیا اور اس طرح پر اس پیشگوئی کو اپنے ہاتھوں سے پورا کیا کہ جو میں نے اشتہار مباہلہ ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء میں شائع کی تھی ۔ اب میں ان تمام مولویوں کو جنہوں نے منکر مہدی معہود کی نسبت یہ فتوی دیا ہے یہ نیک صلاح دیتا ہوں کہ اگر وہ یہ چاہتے ہیں کہ ان پر منافقانہ طریق کا کوئی دھبہ نہ لگے اور ان کی دیانت اور امانت اور تقویٰ اور دینداری میں فرق نہ آوے تو وہ بلا توقف ایک جلسہ کر کے محمد حسین بٹالوی صاحب اشاعة السنه کو اس جلسہ میں بلاویں اور اس کو صاف طور پر کہہ دیں کہ آج تک تم ہم سب پر یہ اپنا اعتقاد ظاہر کرتے رہے کہ تمہارا یہی عقیدہ ہے ہے کہ کہ تم تم اس اس مہدی معہود کے قائل ہو جو بنی فاطمہ فام میں سے آئے گا اور لڑائیاں کرے گا اور دین کو پھیلائے گا اور اب تمہاری نسبت یہ بیان کیا گیا ہے کہ تم نے زمین لینے کی طمع سے گورنمنٹ کو یہ احسان جتلانا چاہا ہے کہ تم ان تمام حدیثوں کو جو مہدی معہود کے بارے میں آئی ہیں جھوٹی سمجھتے ہو اور تم نے صریح طور پر ایک انگریزی فہرست مورخہ ۱۴ اکتوبر ۱۸۹۸ء میں مہدی کی حدیثوں کی نسبت لفظ موضوع لکھ کر اپنا عقیدہ انکار مہدی ظاہر کر دیا ہے۔ اب یا تو صاف طور پر اپنا تو بہ نامہ چھاپ کر شائع کروتا گورنمنٹ عالیہ کو بھی تمہارے اندرونی حالات معلوم ہوں اور یا اس بات کو مان لو کہ تم اس ہمارے فتوے کے مستحق اور اہلحدیث کے عام عقیدہ کے مخالف اور دجال اور کذاب اور ملحد اور بے دین ہو۔ غرض اب تمام علماء کا فرض ہے کہ محمد حسین سے ضرور فیصلہ کریں اور اگر وہ فیصلہ چھاپ کر شائع نہ کریں تو ان کی مولویت اور تقویٰ اور طہارت کا یہی نمونہ کافی ہے کہ وہ فتویٰ جس کو انہوں نے اپنی قلم سے لکھا اب محض نفسانی مصالح سے اس کے پابند رہنا نہیں چاہتے اور جس کو اپنے فتووں میں کافر اور بے دین اور کذاب اور دجال اور مفتری قرار دیا اور اس سے کنارہ کرنے کا بھی حکم دیا۔ پھر اس سے مخالطت اور موانست رکھتے ہیں۔ یہ کس قدر بد چلنی اور بدامانتی اور ناپا کی نفس کا طریق ہوگا