مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 501
مجموعه اشتہارات ۵۰۱ جلد دوم کارروائی پکڑی گئی کہ اس نے محض دروغ گوئی کی راہ سے گورنمنٹ عالیہ انگریزی کو یہ یقین دلایا کہ وہ اس مہدی کے آنے کا منکر ہے جو بنی فاطمہ میں سے آئے گا اور کافروں سے لڑے گا۔ اور اس بارے میں زمین کی طمع کے لئے ایک تحریر انگریزی میں ۱۴ اکتوبر ۱۸۹۸ء کو شائع کی اور اس میں گورنمنٹ کو اپنا یہ احسان جتلایا کہ میں مہد یا کہ میں مہدی کے آنے کی تمام حدیثیں غلط سمجھتا ہوں اور پہلے سے گورنمنٹ کو یہ دھو کہ بھی دے رکھا کہ میں اہل حدیث کا سرگروہ ہوں یعنی میرا اور ان کا ا ایک عقیدہ ہے اور ادھر پنجاب اور ہندوستان کے مولویوں کو یوں خراب کیا کہ ان کو بار بار یہی سبق دیا کہ مہدی معہود ضرور آئے گا اور وہ خلیفہ وقت اور صاحب السیف والامر ہو گا اور بار باران کو یہی کہتا رہا کہ میرا اور تمہارا مہدی کے بارے میں عقیدہ ایک ہے اور میں اس مہدی کا قائل ہوں جو تلوار کے ساتھ دین کو پھیلائے گا اور خلیفہ المسلمین ہوگا اور اسی بنا پر اس نے میری تکفیر کے لئے استفتاء طیار کر کے شور قیامت برپا کیا۔ سو جب مولوی محمد حسین کا اس قسم کا رسالہ مجھے دستیاب ہوا تو اسی وقت میں نے سمجھ لیا کہ اب اس بنا پر پیشگوئی اشتہار مباہلہ ۲۱ رنومبر ۱۸۹۸ء کامل طور پر پوری ہو گئی تب میں نے بلا توقف اسی تاریخ یعنی ۲۹ دسمبر ۱۸۹۸ء کو ایک استفتاء لکھا اور علماء پنجاب اور ہندوستان سے یہ فتوی طلب کیا کہ ایسا شخص جو مہدی کے وجود سے منکر ہے اس کے حق میں تمہارا کیا فتویٰ ہے سو نذیر حسین دہلوی اس کے استاد نے جیسا کہ مجھے کذاب دجال مفتری لکھا تھا ایسا ہی بلا توقف محمد حسین کی نسبت فتوی دے دیا کہ وہ کذاب دجال مفتری ہے اور مولوی عبد الجبار غزنوی نے اس کی نسبت یہ فتوی دیا کہ وہ کافر اور گمراہ اور ضال مضل ہے اور عبد الحق غزنوی نے اپنے فتوئی میں اس کو جہنمی اور گمراہ ٹھہرایا اور مولوی احمد اللہ امرتسری نے اپنے فتوی میں عبد الحق سے اتفاق کیا مگر اتنا زیادہ لکھا کہ ایسے گمراہ کے ساتھ میل ملاقات اور نشست برخواست جائز نہیں۔ لدھیانہ اور لاہور کے مولویوں نے بھی ان فتووں سے اتفاق کیا اور مولوی عبداللہ صاحب پروفیسر اور نینٹل کالج لاہور نے بڑے شدّ ومد سے حدیثوں کے حوالہ سے اس خیانت پیشہ کی خبر لی اور مولوی عبدالعزیز لدھیانوی اور مولوی رشید احمد گنگوہی اور مولوی محمد یعقوب دہلوی اور دیگر علماء نامدار نے جیسا کہ ایسے شخص کی سزا تھی بڑی