مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 500
مجموعہ اشتہارات جلد دوم جاری کرے۔پس بے عزتی اور توہین اور ازالہ حیثیت عرفی میں کوشش کی گئی اور اب تک برابر بلا ناغہ یہ سلسلہ جاری رہا اور بار بار اشتہاروں اور خطوط کے ذریعہ سے مباہلہ کی درخواست بھی کی گئی تو مجھے اندیشہ ہوا کہ یہ نا پاک کارروائی محمد حسین اور اس کے رفیقوں کی کسی فتنہ کی موجب نہ ہو اور میرے گروہ کو اس سے اشتعال پیدا نہ ہو اس لئے میں نے اپنی جماعت کو گورنمنٹ میں میموریل بھیجنے کی صلاح دی تا کہ گورنمنٹ کی طرف سے انتظاماً اس گندی کا رروائی کے انسداد کے لئے کوئی حکم جاری ہو اور اس طرح پر ایک مظلوم فرقہ اپنا انصاف پا کر خاموشی اختیار رکھے۔لیکن گورنمنٹ کی طرف سے اس میموریل کا صرف اس قدر جواب آیا کہ بذریعہ عدالت چارہ جوئی کرنی چاہیے اور اس جواب کا یہ نتیجہ ہوا کہ محمد حسین اور اس کے رفیق محمد بخش نے اپنی بدگوئی کے اشتہار شائع کرنے میں اور بھی ترقی کی۔کیونکہ وہ جانتے تھے کہ عدالتوں میں نالش کرنا ہمارا طریق نہیں ہے۔سو انہوں نے پہلے سے بھی زیادہ تیزی اور گندہ زبانی سے میری نسبت گالیوں سے بھرے ہوئے اشتہار شائع کرنے شروع کر دیئے اور اس پر جعفر زٹلی محمد حسین کی ایما سے مباہلہ پر بھی زور دیتا رہا۔چنانچہ کئی اشتہار مباہلہ کے لئے بھیجے اور ہمارے دل کو بار بار دکھایا۔چونکہ ان فتنہ انگیز تحریروں کے بداثر کا اندیشہ تھا اس لئے میں نے ان فتنوں کے روکنے کی غرض سے یہ مصلحت سمجھی کہ مباہلہ کے طور پر نہایت نرم الفاظ میں ایک اشتہار لکھوں۔سومیں نے ایک اشتہار ۲۱ نومبر ۱۸۹۸ء کو شائع کیا۔اس اشتہار کا خلاصہ مطلب صرف ایک دعا تھی یعنی یہ کہ ہم دونوں فریق میں سے جو ظالم ہے خدا اس کو ذلیل کرے۔اور اس دُعا پر ایک الہام ہوا تھا جس میں ارادہ الہی ان الفاظ سے بتلایا گیا تھا کہ جَزَاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا وَ تَرْهَقُهُمُ ذِلَّةٌ۔یعنی جس فریق ظالم کی طرف سے فریق مظلوم کو کوئی بدی پہنچی ہے اسی قسم کی بدی فریق ظالم کو پہنچے گی سو یہ پیشگوئی محمد حسین کے حق میں بہت جلدی پوری ہوگئی۔کیونکہ پیشگوئی کا اصل مطلب اس شخص کو ذلت پہنچنا تھا جو کا ذب اور ظالم ہو۔اور الہام الہی میں یہ بیان کیا گیا تھا کہ اُسی قسم کی ذلت اس کو پہنچے گی جو اس نے پہنچائی ہو۔سو یہ الہام کامل طور پر ۲۹ ؍ دسمبر ۱۸۹۸ء کو پورا ہو گیا۔کیونکہ اس پیشگوئی کے شائع کرنے کے بعد تاریخ مذکورہ میں محمد حسین کی یہ ایک خیانت آمیز