مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 478
جلد دوم مجموعہ اشتہارات ہی اُلٹی عدالت میں شکایت کی کہ گویا سخت کلمات اور توہین ہماری طرف سے ہے اور اسی بناء پر وہ خون کا مقدمہ اُٹھایا گیا تھا جوڈ گلس صاحب ڈپٹی کمشنر گورداسپور کے محکمہ سے خارج ہو چکا ہے۔اس لئے قرین مصلحت ہے کہ ہم اپنی عادل گورنمنٹ کو اس بات سے آگاہ کریں کہ جس قدر سختی اور دل آزاری پادری صاحبوں کی قلم اور زبان سے اور پھر اُن کی تقلید اور پیروی سے آریہ صاحبوں کی طرف سے ہمیں پہنچ رہی ہے ہمارے پاس الفاظ نہیں جو ہم بیان کر سکیں۔یہ بات ظاہر ہے کہ کوئی شخص اپنے مقتدا اور پیغمبر کی نسبت اس قدر بھی سنا نہیں چاہتا کہ وہ جھوٹا اور مفتری ہے اور ایک باغیرت مسلمان بار بار کی توہین کو سن کر پھر اپنی زندگی کو بے شرمی کی زندگی خیال کرتا ہے تو پھر کیونکر کوئی ایماندار اپنے ہادی پاک نبی کی نسبت سخت سخت گالیاں سُن سکتا ہے۔بہت سے پادری اس وقت برٹش انڈیا میں ایسے ہیں کہ جن کا دن رات پیشہ ہی یہ ہے کہ ہمارے نبی اور ہمارے سید و مولی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے رہیں۔سب سے گالیاں دینے میں پادری عمادالدین امرت سری کا نمبر بڑھا ہوا ہے۔وہ اپنی کتابوں تحقیق الایمان وغیرہ میں کھلی کھلی آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتا ہے اور دغا باز، پرائی عورتوں کو لینے والا وغیرہ وغیرہ قرار دیتا ہے اور نہایت سخت اور اشتعال دینے والے لفظ استعمال کرتا ہے۔ایسا ہی پادری ٹھا کر داس سیرة امسیح اور ریویو براہین احمدیہ میں ہمارے نبی صلے اللہ علیہ وسلم کا نام شہوت کا مطیع اور غیر عورتوں کا عاشق ، فریبی ،لٹیرا ، مکار، جاہل، حیلہ باز ، دھوکہ باز، رکھتا ہے اور رسالہ دَافِعُ الْبُهْتَان میں پادری انکلین نے ہمارے نبی صلے اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ الفاظ استعمال کئے ہیں۔شہوت پرست تھا۔محمد کے اصحاب زنا کار، دغا باز ، چور تھے۔اور ایسا ہی تفتیش الاسلام میں پادری را جرس لکھتا ہے کہ محمد شہوت پرست نفس امارہ کا از حد مطیع، عشق باز ممگار، خونریز اور جھوٹا تھا اور رسالہ نبی معصوم مصنفہ امریکن ٹریکٹ سوسائٹی میں لکھا ہے محمد گہنگار، عاشق حرام یعنی زنا کا مرتکب، مکار، ریا کا رتھا۔اور رسالہ مسیح الدجال میں ماسٹر رامچند رہمارے نبی صل اللہ علیہ وسلم کی نسبت کہتا ہے کہ محمد سرغنہ ڈکیتی