مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 466 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 466

مجموعہ اشتہارات جلد دوم ہوئے تھے اور ان دنوں میں ابو جہل وغیرہ کفار کا کیا کچھ عروج تھا اور لاکھوں آدمی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمن جانی ہو گئے تھے تو پھر کیا چیز تھی جس نے انجام کار ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فتح اور ظفر بخشی۔یقیناً سمجھو کہ یہی راستبازی اور صدق اور پاک باطنی اور سچائی تھی۔سو بھائیو! اس بقیہ حاشیہ۔میں قبر ہے۔کیا انسان کی طاقت میں تھا کہ ان تمام باتوں کو اپنے زور سے پیدا کرسکتا۔اب یہ واقعات اس طرح سے عیسائی مذہب کو مٹاتے ہیں جیسا کہ دن چڑھ جانے سے رات مٹ جاتی ہے۔اس واقعہ کے ثابت ہونے سے عیسائی مذہب کو وہ صدمہ پہنچتا ہے جو اُس چھت کو پہنچ سکتا ہے جس کا تمام بوجھ ایک شہتیر پر تھا۔شہتیر ٹوٹا اور چھت گری۔پس اسی طرح اس واقعہ کے ثبوت سے عیسائی مذہب کا خاتمہ ہے۔خدا جو چاہتا ہے کرتا ہے۔انہی قدرتوں سے وہ پہچانا گیا ہے۔دیکھو کیسے عمدہ معنے اس آیت کے ثابت ہوئے کہ مَا قَتَلُوْهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَكِنْ شُبِّهَ لَهُمْ یعنی قتل کرنا اور صلیب سے مسیح کا مارنا سب جھوٹ ہے۔اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو دھوکا لگا ہے اور مسیح خدا تعالیٰ کے وعدہ کے موافق صلیب سے بچ کر نکل گیا۔اور اگر انجیل کوغور سے دیکھا جائے تو انجیل بھی یہی گواہی دیتی ہے۔کیا مسیح کی تمام رات کی دردمندانہ دُعا رد ہوسکتی تھی۔کیا مسیح کا یہ کہنا کہ میں یونس کی طرح تین دن قبر میں رہوں گا اس کے یہ معنے ہو سکتے ہیں کہ وہ مردہ قبر میں رہا۔کیا یونس مچھلی کے پیٹ میں تین دن مرار رہا تھا۔کیا پیلاطوس کی بیوی کے خواب سے خدا کا یہ منشانہیں معلوم ہوتا کہ مسیح کو صلیب سے بچالے۔ایسا ہی مسیح کا جمعہ کی آخری گھڑی صلیب پر چڑھائے جانا اور شام سے پہلے اتارے جانا اور رسم قدیم کے موافق تین دن تک صلیب پر نہ رہنا اور ہڈی نہ توڑے جانا اور خون کا نکلنا کیا یہ تمام وہ امور نہیں ہیں جو بآواز بلند پکار رہے ہیں کہ یہ تمام اسباب مسیح کی جان بچانے کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اور دُعا کرنے کے ساتھ ہی یہ رحمت کے اسباب ظہور میں آئے۔بھلا مقبول کی ایسی دُعا جو تمام رات رو رو کر کی گئی کب رد ہو سکتی تھی۔پھر مسیح کا صلیب کے بعد حواریوں کو ملنا اور زخم دکھلا نا کس قدر مضبوط دلیل اس بات پر ہے کہ وہ صلیب پر نہیں مرا۔اور اگر یہ صحیح نہیں ہے تو بھلا اب مسیح کو پکا رو کہ تمہیں آکر مل جائے جیسا کہ حواریوں کو ملا تھا۔غرض ہر ایک پہلو سے ثابت ہے کہ حضرت مسیح کی صلیب سے جان بچائی گئی اور وہ اس ملک ہند میں آئے۔کیونکہ بنی اسرائیل کے دس فرقے ان ہی ملکوں میں آ گئے تھے جو آخر کار مسلمان ہو گئے اور پھر اسلام کے بعد بموجب وعدہ توریت کے اُن میں کئی بادشاہ بھی ہوئے۔اور یہ ایک دلیل صدق نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ہے کیونکہ توریت میں وعدہ تھا کہ بنی اسرائیل نبی موعود ا النساء : ۱۵۸