مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 465 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 465

۴۶۵ جلد دوم مجموعہ اشتہارات ہیں اور خصومت کو انتہا تک پہنچاتے ہیں تو وہ فریق جو خدا تعالیٰ کی نظر میں متقی اور پر ہیز گار ہوتا ہے آسمان سے اس کے لئے مدد نازل ہوتی ہے اور اس طرح پر آسمانی فیصلہ سے مذہبی جھگڑے انفصال پاجاتے ہیں۔دیکھو ہمارے سید و مولی نبینا محمدصلی اللہ علیہ وسلم کیسی کمزوری کی حالت میں مکہ میں ظاہر بقیہ حاشیہ۔میں گئے تھے۔لیکن بہر حال کشمیر میں جانا اور پھر تبت میں جا کر بدھ مذہب کی پستکوں سے یہ تمام پستہ لگانا اس جماعت کا فرض منصبی ہوگا۔اخویم شیخ رحمت اللہ صاحب تاجر لاہور نے ان تمام اخراجات کو اپنے ذمہ قبول کیا ہے۔لیکن اگر یہ سفر جیسا کہ خیال کیا جاتا ہے بنارس اور نیپال اور مدراس اور سوات اور کشمیر اور تثبت وغیرہ ممالک تک کیا جائے جہاں جہاں حضرت مسیح علیہ السلام کی بودوباش کا پتہ ملا ہے تو کچھ شک نہیں کہ یہ بڑے اخراجات کا کام ہے اور امید کی جاتی ہے کہ بہر حال اللہ تعالیٰ اس کو انجام دے دے گا۔ہر ایک دانش مند سمجھ سکتا ہے کہ یہ ایک ایسا ثبوت ہے کہ اس سے یک دفعہ عیسائی مذہب کا تمام تانا بانا ٹوٹتا ہے اور انیس سو برس کا منصو بہ یکد فعہ کا لعدم ہو جاتا ہے۔اس بات کا اطمینان ہو گیا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کا اس ملک ہند اور کشمیر وغیرہ میں آنا ایک واقعی امر ہے۔اور اس کے بارے میں ایسے زبر دست ثبوت مل گئے ہیں کہ اب وہ کسی مخالف کے منصوبہ سے چھپ نہیں سکتے۔معلوم ہوتا ہے کہ ان بیہودہ اور غلط عقائد کی اسی زمانہ تک عمر تھی۔ہمارے سید و مولیٰ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا کہ وہ مسیح موعود جو آنے والا ہے صلیب کو تو ڑے گا اور آسمانی حربہ سے دجال کو قتل کرے گا۔اس حدیث کے اب یہ معنے کھلے ہیں کہ اُس مسیح کے وقت میں زمین و آسمان کا خدا اپنی طرف سے بعض ایسے امور اور واقعات پیدا کر دے گا جن سے صلیب اور تثلیث اور کفارہ کے عقائد خود بخود نابود ہو جائیں گے مسیح کا آسمان سے نازل ہونا بھی ان ہی معنوں سے ہے کہ اُس وقت آسمان کے خدا کے ارادہ سے کسر صلیب کے لئے بدیہی شہادتیں پیدا ہو جائیں گی۔سوایسا ہی ہوا۔یہ کس کو معلوم تھا کہ مرہم عیسی کا نسخہ صد باطبی کتابوں میں لکھا ہوا پیدا ہو جائے گا اس بات کی کس کو خبر تھی کہ بدھ مذہب کی پرانی کتابوں سے یہ ثبوت مل جائے گا کہ حضرت عیسی علیہ السلام بلاد شام کے یہودیوں سے نومید ہو کر ہندوستان اور کشمیرا در تبت کی طرف آئے تھے لیے یہ بات کون جانتا تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی کشمیر ا نوٹ۔حال میں مسلمانوں کی تالیف بھی چند پرانی کتابیں دستیاب ہوئی ہیں جن میں صریح یہ بیان موجود ہے کہ یوز آسف ایک پیغمبر تھا جو کسی ملک سے آیا تھا اور شہزادہ بھی تھا۔اور کشمیر میں اُس نے انتقال کیا۔اور بیان کیا گیا ہے کہ وہ نبی چھ سو برس پہلے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے گزرا ہے۔منہ