مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 452 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 452

۴۵۲ جلد دوم مجموعہ اشتہارات کے صفحہ ۶۶ و ۱۸۸و۳۱۳ اور نمبر ۳ جلد ۱۸ کے صفحہ ۸۶ اور دیگر مقامات میں کا دیانی سے مباہلہ کے لئے مستعدی ظاہر کر چکے ہیں اور اس سے گریز وانکار اسی کا دیانی بدکار کی طرف سے ہوا نہ مولانا موصوف کی طرف سے۔پھر یہ لوگ کس منہ سے مولانا مولوی صاحب کو مباہلہ کے لئے بلاتے ہیں اور شرم و حیا سے کچھ کام نہیں لیتے اسی وجہ سے مولوی صاحب ان مجاہیل کی فضول لاف و گزاف کی طرف توجہ نہیں کرتے اور اُن لوگوں کو مخاطب بنانا نہیں چاہتے البتہ اُن کے مرشد دقبال اکبر کذاب العصر سے مباہلہ کرنے کے لئے ہر وقت بغیر کسی شرط کے مستعد و تیار ہیں۔اگر کادیانی اپنی طرف سے دعوت مباہلہ کا اشتہار دے یا کم سے کم یہ مشتہر کر دے کہ اس کے مریدوں نے جو اشتہار دیئے ہیں وہ اسی کی رضا مندی و ترغیب سے دیئے ہیں۔اُس میں مولوی صاحب ممدوح اپنی طرف سے کوئی شرط پیش نہیں کرتے صرف کادیانی کی شروط و میعاد ایک سال کو اڑا کر یہ چاہتے ہیں کہ اثر مباہلہ اسی مجلس میں ظاہر ہو یا زیادہ سے زیادہ تین روز میں جوعبداللہ آتھم کے مباہلہ قسم کے لئے اس نے تسلیم کئے تھے او قبل از مباہلہ کا دیانی اس اثر کی تعیین بھی کر دے کہ وہ کیا ہوگا۔اس کی وجہ و دلیل بتفصیل مع حوالہ حدیث و تفسیر وہ اشاعۃ السنہ نمبر ۸ جلد ۱۵ کے صفحہ اے وغیرہ اور نمبر ۳ جلد ۱۸ کے صفحہ ۸۶ میں یہ بیان کر چکے ہیں کہ یہ میعاد ایک سال کی خلافت سُنتی ہے اور اس میں کا دیانی کی حیلہ سازی و فریب بازی کی بڑی گنجایش ہے اور درصورت نہ ہونے ظاہر اثر مباہلہ کے مولوی صاحب کچھ نقد انعام نہیں لینا چاہتے صرف وہی سزا تجویز فرماتے ہیں جو کادیانی نے عبد اللہ آتھم کے متعلق پیشگوئی پوری نہ ہونے کی صورت میں اپنے لئے خود تجویز کی تھی کہ اس کا منہ کالا کیا جاوے اُس کو ذلیل کیا اصل عبارت پر چہ مذکورہ یہ ہے ”میں اس وقت اقرار کرتا ہوں کہ اگر یہ پیشگوئی جھوٹی نکلی یعنی وہ فریق جو خدا تعالیٰ کے نزدیک جھوٹ پر ہے۔وہ پندرہ ماہ کے عرصہ میں آج کی تاریخ سے بسزائے موت ہادیہ میں نہ پڑے تو میں ہر ایک سزا کے اُٹھانے کے لئے تیار ہوں۔مجھ کو ذلیل کیا جاوے رہ سیاہ کیا جاوے میرے گلے میں رستہ دال دیا جاوے ہر ایک بات کے لئے تیار ہوں۔“ سے تعجب کہ یہ لوگ کس قدر چالاکی سے کام لیتے ہیں۔اگر مباہلہ کا اثر فوری ضروری ہے تو کیوں اپنی بددُعا کی نسبت یہ دعوی نہیں کرتے کہ فی الفور ہماری بددعا کا اثر ہو جائے گا۔من المشتہر سے اس کے جواب میں بجز اس کے ہم کیا کہیں کہ لَعْنَةُ اللَّهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ من المشتهر