مجموعہ اشتہارات (جلد 2)

by Hazrat Mirza Ghulam Ahmad

Page 449 of 630

مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 449

مجموعہ اشتہارات ۴۴۹ جلد دوم اور محمد بخش جعفر زٹلی اور ابوالحسن تبتی نے اس اشتہار میں جو ارنومبر ۱۸۹۸ء کو چھپا ہے میرے ذلیل کرنے میں کوئی دقیقہ اُٹھا نہیں رکھا تو اے میرے مولیٰ اگر میں تیری نظر میں ایسا ہی ذلیل ہوں تو مجھ پر تیرہ ماہ کے اندر یعنی پندرہ دسمبر ۱۸۹۸ء سے ۱۵ جنوری ۱۹۰۰ ء تک ذلت کی مار وارد کر اور ان لوگوں کی عزت اور وجاہت ظاہر کر اور اس روز کے جھگڑے کو فیصلہ فرما۔لیکن اگر اے میرے آقا میرے مولیٰ میرے منعم میری اُن نعمتوں کے دینے والے جو تو جانتا ہے اور میں جانتا ہوں تیری جناب میں میری کچھ عزت ہے تو میں عاجزی سے دُعا کرتا ہوں کہ ان تیره (۱۳) مہینوں میں جو ۱۵ دسمبر ۱۸۹۸ء سے ۱۵ جنوری ۱۹۰۰ ء تک شمار کیے جائیں گے شیخ محمد حسین اور جعفر زٹلی اور تبتی مذکور کو جنہوں نے میرے ذلیل کرنے کے لئے یہ اشتہار لکھا ہے ذلت کی مار سے دُنیا میں رُسوا کر غرض اگر یہ لوگ تیری نظر میں بچے اور متقی اور پر ہیز گار اور میں کذاب اور مفتری ہوں تو مجھے ان تیرہ مہینوں میں ذلت کی مار سے تباہ کر اور اگر تیری جناب میں مجھے وجاہت اور عزت ہے تو میرے لئے یہ نشان ظاہر فرما کہ ان تینوں کو ذلیل رُسوا اور ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ کا مصداق کر۔آمین ثم آمین۔یہ دُعا تھی جو میں نے کی۔اس کے جواب میں یہ الہام ہوا کہ میں ظالم کو ذلیل اور رسوا کروں گا اور وہ اپنے ہاتھ کاٹے گائے اور چند عربی الہامات ہوئے جو ذیل میں درج کئے جاتے ہیں۔اِنَّ الَّذِينَ يَصُدُّونَ عَنْ سَبِيلِ اللَّهِ سَيَنَا لُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّبِّهِمْ۔ضَرْبُ اللَّهِ أَشَدُّ مِنْ ضَرْبِ النَّاسِ۔إِنَّمَا أَمْرُنَا إِذَا أَرَدْنَا شَيْئًا اَنْ نَّقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونَ۔أَتَعْجَبُ لَا مُرِى إِنِّي مَعَ الْعُشَّاقِ۔إِنِّي أَنَا الرَّحْمَنُ ذُو الْمَجْدِ وَالْعُلى۔وَيَعُضُّ الظَّالِمُ عَلَى يَدَيْهِ۔وَيُطْرَحُ بَيْنَ يَدَيَّ جَزَاءُ سَيِّئَةٍ بِمِثْلِهَا۔وَتَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ۔مَالَهُمْ مِّنَ اللَّهِ مِنْ عَاصِمٍ فَاصْبِرُ ے یہ تیرہ مہینے خدا تعالیٰ کے الہام سے معلوم ہوئے ہیں یعنی سال پر ایک ماہ اور زیادہ ہے۔منہ ے ہاتھ کاٹنے سے مراد یہ ہے کہ جن ہاتھوں سے ظالم نے جو حق پر نہیں ہے نا جائز تحریر کا کام لیا وہ ہاتھ اس کی حسرت کا موجب ہوں گے اور افسوس کرے گا کہ کیوں یہ ہاتھ ایسے کام پر چلے۔منه