مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 448
مجموعہ اشتہارات ۴۴۸ جلد دوم تصریح تو کیا اس کے برخلاف عمل درآمد پایا گیا ہے۔دیکھو مکہ والوں کے عذاب کے لئے ایک برس کا وعدہ دیا گیا تھا اور یونس کی قوم کے عذاب کے لئے چالیس دن مقرر ہوئے تھے بلکہ خدا تعالیٰ کی کتابوں میں بعض عذابوں کی پیشگوئی صد ہا برس کے وعدوں پر کی گئی ہے۔پھر خواہ نخواہ کچے اور بیہودہ بہانے کر کے اور سراسر بد دیانتی کو شیوہ ٹھہرا کر طریق فیصلہ سے گریز کرنا ان علماء کا کام نہیں ہوسکتا جو دیانت اور امانت اور پرہیز گاری کا دم مارتے ہوں۔اگر ایک شخص در حقیقت مفتری اور جھوٹا ہے تو خواہ مباہلہ ایک سال کی شرط پر ہو خواہ دس سال کی شرط پر افترا کرنے والا کبھی فتح یاب نہیں ہوسکتا۔غرض نہایت افسوس کی بات ہے کہ اس درخواست مُباہلہ کو جو نہایت نیک نیتی سے کی گئی تھی شیخ محمد حسین نے قبول نہیں کیا اور یہ عذر کیا کہ تین دن تک مہلت اثر مباہلہ ہم قبول کر سکتے ہیں زیادہ نہیں حالانکہ حدیث شریف میں سال کا لفظ تو ہے مگر تین دن کا نام ونشان نہیں اور اگر فرض بھی کر لیں کہ حدیث میں جیسا کہ تین دن کی کہیں تحدید نہیں۔ایسا ہی ایک سال کی بھی نہیں۔تاہم ایک شخص جو الہام کا دعوی کر کے ایک سال کی شرط پیش کرتا ہے علماء امت کا حق ہے کہ اُس پر حجت پوری کرنے کے لئے ایک سال ہی منظور کر لیں۔اس میں تو حمایت شریعت ہے تا مدعی کو آئیندہ کلام کرنے کی گنجائش نہ رہے۔”خدا لکھ چکا ہے کہ میں اور میرے نبی اور میرے پر ایمان لانے والے غالب رہیں گے۔“ سوشیخ محمد حسین نے باوجود بانی تکفیر ہونے کے اس راہ راست پر قدم مارنا نہیں چاہا اور بجائے اس کے نیک نیتی سے مباہلہ کے میدان میں آتا یہ طریق اختیار کیا ایک گندہ اور گالیوں سے پر اشتہار لکھ کرمحمد بخش جعفر زٹلی اور ابولحسن تبتی کے نام سے چھپوا دیا۔اس وقت وہ اشتہار میرے سامنے رکھا ہے۔اور میں نے خدا تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ وہ مجھ میں اور محمد حسین میں آپ فیصلہ کرے۔اور وہ جو میں نے کی ہے یہ کہ اے میرے ذولجلال پر وردگار اگر میں تیری نظر میں ایسا ہی ذلیل اور جھوٹا اور مفتری ہوں جیسا کہ محمد حسین بٹالوی نے اپنے رسالہ اشاعۃ السنہ میں بار بار مجھ کو کذاب اور دقبال اور مفتری کے لفظ سے یاد کیا ہے اور جیسا کہ اُس نے ے عجیب بات ہے کہ ایک طرف مباہلہ سے انکار اور پھر گالیاں دینے میں اصرار ہے۔منہ