مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 447
مجموعہ اشتہارات ۴۴۷ جلد دوم صرف مسلمانوں کو دھوکہ دینے کے لئے اپنا اسلام ظاہر کرتے ہو۔گویا شیخ صاحب اور اُن کے دوستوں نے ہمارے سینوں کو چاک کر کے دیکھ لیا ہے کہ ہمارے اندر کفر بھرا ہے۔خدا تعالیٰ نے اپنے بندے کی تائید میں اپنے نشان بھی دکھلائے مگر وہ نشان بھی حقارت اور بے عزتی کی نظر سے دیکھے گئے اور کچھ بھی ان نشانوں سے شیخ محمد حسین اور اس کے ہم مشرب لوگوں نے فائدہ نہیں اُٹھایا بلکہ سختی اور بد زبانی روز بروز بڑھتی گئی۔چنانچہ ان دنوں میں میرے بعض دوستوں نے کمال نرمی اور تہذیب سے شیخ صاحب موصوف سے یہ درخواست کی تھی کہ مسلمانوں میں آپ کے فتویٰ کفر کی وجہ سے روز بروز تفرقہ بڑھتا جاتا ہے۔اور اب اس بات سے نومیدی کلی ہے کہ آپ مباحثات سے کسی بات کو مان لیں اور نہ ہم آپ کی بے ثبوت باتوں کا مان سکتے ہیں اس لئے بہتر ہے کہ آپ مباہلہ کر کے تصفیہ کر لیں۔کیونکہ جب کسی طرح جھگڑا فیصلہ نہ ہو سکے تو آخری طریق خدا کا فیصلہ ہے جس کو مباہلہ کہتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ اثر مباہلہ کے لیے اس طرف سے ایک سال کی شرط ہے اور یہ شرط الہام کی بنا پر ہے لیکن تاہم آپ کو اختیار ہے کہ اپنے مباہلہ کا اثر تین دن یا ایک دم ہی رہنے دیں کیونکہ مباہلہ دونوں جانب کی لعنت اور بددعا کا نام ہے۔آپ اپنے بد دعا کے اثر کی مدت قرار دینے میں اختیار رکھتے ہیں۔ہماری بددُعا کے اثر کا وقت ٹھہرانا آپ کا اختیار نہیں ہے۔یہ کام ہمارا ہے کہ ہم وقت ٹھہرا وہیں اس لئے آپ کو ضد نہیں کرنی چاہیے۔آپ اشاعتہ السنہ نمبر 1 جلدے میں تسلیم کر چکے ہیں کہ شخص ملہم کو جہاں تک شریعت کی سخت مخالفت پیدا نہ ہو اپنے الہام کی متابعت ضروری ہے لہذا ایک سال کی شرط جو الہام کی بنا پر ہے اس وجہ سے رد نہیں ہوسکتی کہ حدیث میں ایک سال کی شرط بصراحت موجود نہیں۔کیونکہ اول تو حدیث مباہلہ میں ایک سال کا لفظ موجود ہے اور اس سے انکار دیانت کے برخلاف ہے کے برخلاف ہے۔پھر اگر فرض کے طور پر حدیث میں سال کا لفظ موجود بھی نہ ہوتا تو چونکہ حدیث میں ایسا لفظ بھی موجود نہیں جو سال کی شرط کی حرام اور ممنوع ٹھیرا تا ہو اس لئے آپ ہی حرام اور نا جائز قرار دے دینا امانت سے بعید ہے۔اگر خدا تعالیٰ کی عادت فوری عذاب تھا تو قرآن شریف میں یا تعلیم رسول صلے اللہ علیہ وسلم میں اس کی تصریح ہونی چاہیے تھی لیکن