مجموعہ اشتہارات (جلد 2) — Page 446
مجموعہ اشتہارات ۱۹۸ ۴۴۶ جلد دوم بسم الله الرّحمنِ الرَّحِيم نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيم رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَانتَ خَيْرُ الْفَاتِحِيْنَ امین ہم خدا پر فیصلہ چھوڑتے ہیں اور مبارک وہ جو خدا کے فیصلہ کو عزت کی نظر سے دیکھیں جن لوگوں نے شیخ محمد حسین صاحب بٹالوی کے چند سال کے پرچہ اشاعۃ السنہ دیکھے ہوں گے وہ اگر چاہیں تو محض للہ گواہی دے سکتے ہیں کہ شیخ صاحب موصوف نے اس راقم کی تحقیر اور تو ہین اور دشنام دہی میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی۔ایک وہ زمانہ تھا جو اُن کا پر چہ اشاعۃ السنہ گتِ لِسَان اور تقویٰ اور پرہیز گاری کے طریق کا مؤید تھا اور کفر کے ننانوے وجوہ کو ایک ایمان کی وجہ پائے جانے سے کالعدم قرار دیتا تھا اور آج وہی پرچہ ہے جو ایسے شخص کو کافر اور دقبال قرار دے رہا ہے جو كلمه طيبه لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ الله کا قاتل اور آنحضرت صلے اللہ علیہ وسلم کو خاتم الانبیاء سمجھتا اور تمام ارکان اسلام پر ایمان لاتا ہے اور اہلِ قبلہ میں سے ہے۔اور ان کلمات کوسن کر شیخ صاحب اور اُن کے ہم زبان یہ جواب دیتے ہیں کہ تم لوگ دراصل کا فراور منکر اسلام اور دہر یہ ہو الاعراف: ۹۰